اسلام آباد :وفاقی حکومت کے پاس کچھ آئینی اختیارات ہیں جن میں کسی بھی صوبے میں مداخلت کے لئے گورنر راج اور مالی ہنگامی صورتحال نافذ کرنا شامل ہیں جنہیں، تاہم تھوڑا سا استعمال کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر متعلقہ وفاقی اکائی کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ آئینی ماہرین نے دی نیوز کو بتایا کہ مرکزی حکومت کو کراچی سے متعلق کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے اضافی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ صوبائی انتظامیہ اس کو سخت چیلنج دے گی اور مخالفت کرے گی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کی بہتری کے لئے مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور انہوں نے ان کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چیئرمین بلاول اور وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے سخت ردعمل کراچی کے بارے میں کسی بھی وفاقی اقدام کیلئے ان کے جواب کی عکاسی کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کے بیان پر تبصرہ کے حوالے سے جب کہا گیا تو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نے کہا کہ سندھ میں کوئی بھی وفاقی مداخلت جمہوریت کے خلاف حملہ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی انتظامیہ کو کسی بھی وفاقی اکائی کے خلاف کسی بھی ادارے کے کندھوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم انہوں نے مختلف آئینی آرٹیکلز 145 ،147، 149 ، 234 اور 235 کا حوالہ دیا کہ وفاقی حکومت کراچی کو ’ٹیک اوور‘ کرنے کیلئے ان پر انحصار کرسکتی ہے یا وہاں دیگر کارروائیوں میں مصروف ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی حملہ قانونی برادری کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا اور پاکستان کی بڑی بارز نے یہ پہلے ہی بتا دیا ہے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل کاشف ملک نے سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیا جو کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے پاس آرٹیکل 148 (3) کے تحت مخصوص دائرہ کاروں خصوصاً امن و امان کی صورتحال میں آنے کا اختیار ہے۔ کاشف ملک کا کہنا تھا کہ کسی صوبے میں وفاقی مداخلت، جس پر وہ جماعت حکمرانی کرتی ہو جو مرکزی حکومت چلانے والی سیاسی وجود کی مخالف ہے جیسا کہ اس وقت سندھ کا معاملہ ہے، ہمیشہ ہی حساس معاملہ تھا جو سیاسی تباہی کو جنم دے سکتا ہے۔ کسی بھی وفاقی مداخلت کے پیچھے مقصد کراچی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا، لیکن اگر صورتحال بدصورت موڑ لیتی ہے تو اس طرح کا کوئی بھی آئینی اقدام خلاف منشا ثابت ہوسکتا ہے
