سعودی شاہی خاندان کے سینئر رکن نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا جب خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے بظاہر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔ انہوں نے سعودی اخبار ‘الشرق الأوسط’ میں لکھا کہ ‘کوئی بھی عرب ریاست جو متحدہ عرب امارات کے راستے پر چلنا چاہتی ہے اسے بدلے میں قیمت کا مطالبہ کرنا چاہیے، جبکہ یہ قیمت بڑی ہونی چاہیے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب نے اسرائیل اور عربوں کے درمیان امن کی قیمت مقرر کر لی ہے اور یہ خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔’
