کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے محکمہ واسااور پی ایچ ای میں حالیہ بھرتیوں سے متعلق تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کوئٹہ کے خالی آسامیوں پر باہر کے لوگوں کی تعیناتیاں کی جارہی ہیں ،کوئٹہ کے ارکان صوبائی اسمبلی کااحتجاج برحق ہے کوئٹہ کے ٹیوب ویل سے سنجاوی پر کوئی کیسے آکر کام کرسکتاہے ، کوئٹہ کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر وزیراعلی کو جوابدہ ہونا چاہیے ،تمام معاملات اندرون خانہ طے کئے جاتے ہیں دوسری جانب صوبائی وزرا نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے پروزیراعلی سے بات کرینگے اگر کوئی بے قاعدگی ہوئی ہے تو اس کاازالہ کیاجائے گاجبکہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ جب وزیراعلی پی ایچ ای معاملے کا وضاحت دیںگے اس کے بعد اس پر کوئی رولنگ دی جائیگی ۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی ایک گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سرداربابر خان موسی خیل کی زیر صدارت شروع ہوا تو بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ کو لوٹاجارہاہے ایک سال پہلے محکمہ تعلیم میں قوائد کے برعکس بھرتیاں کی گئی تھی جس پر ہم نے اس ایوان میں بھرپور احتجاج کیا تھا جس پر سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ آئی مگر وزیراعلی کی یقین دہانی کے باوجود اس پرعملدرآمد نہیں کیا گیا اب واسا میں اسی قسم کی بھرتیاں کی گئی ہے 125آسامیوں پر 80افراد سنجاوی سے لاکر بھرتی کئے گئے ہیں جبکہ 10ملازمتیں واسا کے اعلی آفیسران کو خوش کرنے کیلئے انہیں دی گئی ہے درجہ چہارم کی آسامیوں پر کوئٹہ سے باہر کے لوگوں کی تعیناتی افسوسناک ہے ماضی میں یہ کچھ محکمہ کھیل میں ہوا 2008 سے 2013 میں ڈھائی سو افراد کو چوکیدار اور مالی تعینات کیا گیا مگر آج وہاں 10لوگ بھی فرائض انجام نہیں دے رہے یہ تمام لوگ ایک وزیر اپنے دور میں کوہلو سے لاکر تعینات کیا تھا جو گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لے رہے ہیں ،درجہ چہارم کی ایک چھوٹی سی ملازمت پر تعینات کم تنخواہ پانے والے سنجاوی اور کوہلو سے کہاں آکر کام کرینگے ایک جانب آدھا صوبہ اس وقت کوئٹہ میں موجودہ ہے مگر مردم شماری کے تحت کوئٹہ کی آبادی صرف 24لاکھ ہیں جس کی وجہ سے کو فنڈز کم مل رہے ہیں کوئٹہ کے عوام سے ناانصافی پر ہم عدالت جائینگے اور عوام کے پاس بھی جائینگے ۔پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے کہاکہ واسا پر ملازمتوں کا حق صرف کوئٹہ کے عوام کو ہے میں گزشتہ سات سال سے کوئٹہ سے ایم پی اے ہوں میرے حلقے میں 80ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں مگر وہاں پر والمین ،چوکیدار اور مشین آپریٹر تک نہیں جن لوگوں نے ٹیوب ویلوں کیلئے زمینیں دی تھی انہیں بھی ملازمتیں نہیں دی جارہی مگر سنجاوی سے لوگوں کو یہاں لاکر تعینات کیاجارہاہے ہم نے محکمہ تعلیم کی آسامیوں پر احتجاج کیا تھا اس پر عمل نہ ہوا مگر اب واسا میں یہ بھرتیاں کی گئی ہے انہوں نے مطالبہ کیاکہ بھرتیوں کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی جائیں اور تمام بھرتیاں منسوخ کی جائیں ۔
