بلوچستان اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈراصغرخان اچکزئی نے اگست میں ہونے والے متعدد واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ حیات بلوچ کے قتل میں ملوث ملزم گرفتاری ایک بہت بڑی کامیابی ہے مگر یہاں مسئلہ ذہنیت کا ہے ایک واقعہ سے تحریکیں بنتی ہے پی ٹی ایم نقیب اللہ محسود کے واقعہ سے بنا مگر کیا راﺅ انوار کو وہ سزا ملی جس کا وہ مستحق ہیں ،چمن بارڈر کھول کر قانونی تجارت کی اجازت دینے کامطالبہ کیا تاہم چمن میں پیش آنے والے واقعہ سے ہمیں بہت بڑا نقصان پہنچاہے دونوں جانب 50کے قریب افراد شہید ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم صوبے میں لیویز اور پولیس کی استعداد کار میں اضافے کی بات کررہے ہیں صوبے کے تین اضلاع میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سے متعلق عدالت عالیہ میں درخواست دی ہے جو زیر التوا ہے انہوں نے حاجی ذابد ریکی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کیا اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ ہم پر الزام لگایاجاتاہے کہ آیا بی اے پی جو ہم سے کئی گناہ زیادہ وفادار جماعت ہے وہ کیوں 14اگست کو نہیں نکلی ،ن لیگ جو ہم سے لاکھ گنا زیادہ وفادار جماعت ہے وہ اور ق لیگ جو اس وقت وفاقی حکومت میں شامل ہیں وہ کیوں نہیں نکلے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قائم چیک پوسٹوں پر لوگوں سے بھتہ وصول کئے جانے کی شکایات آتی رہی ہیں اگر یہ پیسہ حکومت کے خزانے میں جاتا تو ہمیں کوئی شکوہ نہ ہوتا ۔بی این پی کے رکن اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہاکہ اگر ماضی کے واقعات کے خلاف کارروائی ہوتی توآج حیات بلوچ کاقتل نہ ہوتا اور ذابد ریکی کا واقعہ پیش نہ آتا ان واقعات کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن بنایاجائے ۔بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیرشاہوانی نے کہاکہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے صوبے میں ناانصافیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیاہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے نہ کہ انہیں قتل کیاجائے رکن صوبائی اسمبلی ذابد ریکی کے معاملے پر کمیٹی بنائی جائیں جو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کریں ۔صوبائی وزیر سردارعبدالرحمن کھیتران نے کہاکہ ہم حیات بلوچ کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں لیکن بلوچستان میں صوبے کے بہت سے سپوتوں کو پاکستان کی حمایت کرنے پر قتل کیاگیا سیکورٹی فورسز دن رات ایک کرکے صوبے میں امن قائم کررہی ہے ان کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں ہونی چاہئیں ،اجلاس رات گئے تک جاری رہا۔
