بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہاکہ پہلے بھی محکمہ پی ایچ ای میں بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی کوئٹہ میں پی ایچ ای میں لیڈی چوکیدار بھی لگا دی گئی میرے حلقے میں 70ٹیوب ویل مکمل ہیں لیکن انہیں فعال نہیں کیا جارہا تمام معاملات اندرون خانہ طے کئے جاتے ہیں اب 125آسامیوں پر کوئٹہ سے باہر لوگوں کو تعینات کردیاگیاہے کوئٹہ کے 23لاکھ آبادی کے نوجوانوں کا حق کیوں مارا جارہاہے کوئٹہ کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر وزیراعلی کو جوابدہ ہونا چاہیے وہ یہ بھی بتائیں کہ سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ اب تک ایوان میں کیوں پیش نہیں کی گئی یوں محسوس ہوتاہے کہ وزیراعلی چاہتے ہیں کہ کرپشن ہوں انہوں نے مطالبہ کیاکہ کوئٹہ کے ارکان صوبائی اسمبلی پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی جائیں جو پی ایچ ای میں ہونے والی حالیہ بھرتیوں کی تحقیقات کریں اگر ایسا نہیں کیا گیا تواسپیکر ڈیسک کے سامنے احتجاج کرینگے ۔بی این پی کے رکن اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہاکہ میں اپنے علاقے میں قائم ٹیوب ویلز پرکسی بھی باہر سے آنے والے ملازم کو کام کرنے کیلئے نہیں چھوڑوں گا،حلقہ پی بی 30میں بھی کئی ٹیو ب ویلز فعال نہیں ہیں
