نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل بھر میں احتجاجی مظاہرے

نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل بھر میں احتجاجی مظاہرے

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پورے اسرائیل میں نئے مظاہروں کے دوران نیتن یاہو کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزام میں استعفے کی اپیلیں دہرائی جا رہی ہیں۔ ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر کورونا بحران میں ناکامی کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل بھر میں نئے مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق صرف یروشلم میں ہی لگ بھگ 10000 افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر جمع ہوئے۔ ادھر تل ابیب کے وسط میں واقع رابن اسکوائر کے قریب مظاہرین نے متعدد سڑکیں بلاک کر دیں۔ اس کے علاوہ ملک کی مختلف شاہراہوں اور پلوں پر بھی مظاہرے کی اطلاع ہے۔ یروشلم میں مرکزی ریلی کے لیے مظاہرین شہر کے مرکزی مقام کے باہر جمع ہوئے اور پھر اسرائیلی پرچم اور سیاہ جھنڈے لہراتے ہوئے نیتن یاہو کی سرکاری رہائش گاہ کی جانب گامزن ہو گئے۔ سیاہ جھنڈے اس احتجاجی تحریک کی ایک علامت بن چکے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران شرکاء نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ان میں سے ایک بینر پر لکھا تھا، ’’اسرائیل بی بی کی طرح نہیں ہے۔‘‘ واضح رہے نیتن یاہو کے لیے بعض مظاہرین ان کے لیے بی بی کا نام استعمال کرتے ہیں۔ اسرائیل میں گزشتہ کئی ہفتوں سے نیتن یاہو کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزامات کے نتیجے میں استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو کو کورونا بحران سے نمٹنے میں ناکامی کے لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد، اسرائیل نے مئی کے وسط میں تیزی سے معمولات زندگی بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک میں کورونا انفیکشن کے کیسز ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئے۔ اسرائیل میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد اب ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ ہے اور وائرس کے سبب اموات کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار ہو چکی ہیں۔ 70 سالہ نیتن یاہو اس دوران یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی قبل از وقت تھی۔ اسرائیلی عوام کے لیے ملک میں بیس فیصد سے زائد بے روزگاری کی شرح بھی مایوسی کی ایک اہم وجہ خیال کی جاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!