حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ، پالیسیوں کو مسلح افواج کی حمایت حاصل ہے،عمرا ن خان

حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ، پالیسیوں کو مسلح افواج کی حمایت حاصل ہے،عمرا ن خان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے، پالیسیوں کو مسلح افواج کی حمایت حاصل ہے، ہماری تمام پالیسیوں کا محور پسماندہ طبقے کی ترقی ہے ، پاکستان افغانستان میں امن کے استحکام کا حامی ہے افغان امن معائدہ ایک معجزہ ہے،پاکستان کے چین امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں ،ہمارا معاشی مستقبل چین کے ساتھ ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ طاقتور اور اشرافیہ طبقہ احتساب کے دائرے میں آئے ہیںکرپشن کسی بھی سوسائٹی کے لیے تباہی کا باعث ہوتی ہے آج پاکستان میں کوئی میگا کرپشن اسکینڈل نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ سطح پر ایسے کنٹرول کرلیا گیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم کا کہناتھاکہ ہم نے حکومت سنبھالی تو متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا تھا لیکن ہم نے معاشی اصلاحات اور کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات کئے قرض پر انحصار ہو تو معیشت نہیں چلتی اور ہم نہیں چاہتے کہ ملک قرض پر چلے جیسے معاشی اور اقتصادی حالات پاکستان کے ہیں اس صورتحال میں کوئی بھی ملک محض چٹکی بجا کر تبدیلی نہیں لا سکتامعیشت کی بحالی ایک رات میں ممکن نہیں ہے اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ پہلے مائیڈ سیٹ کی تبدیلی ہوگی اس کے بعد وہ تبدیلی درکار ہے جس طرح حکومت کام کرنا چاہتی ہے،،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غیرمعمولی داخلی اور خارجہ خسارے کاسامنا ہے، ملک توانائی کا شعبہ بحران سے دوچارہے، معشیت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری ہے جب ملک کو صحیح سمت پر گامزن کرنے کی نیت ہو تو جدوجہد کرنی پڑتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا ملک اپنی بقا کے لیے ہمیشہ قرض لے انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی اور محصولات میں اضافے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پڑتی ہے، ہم اپنے اخراجات میں نمایاں کمی لائے۔انہو ں نے کہا کہ ہمیں کورونا کے ساتھ عوام کو بھوک سے بھی بچانا تھا، ہم نے آنکھیں بند کر کے مکمل لاک ڈاو¿ن کی پالیسی پر عمل نہیں کیا ہم نے کورونا سے نمٹنے کیلئے تمام ممکن اقدامات کیے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم جمہوری طریقے سے اقتدار میں آئے اور تمام سیاسی جماعتوں کو کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کریں کوئی ا یک حلقہ بتائیں جس میں دھاندلی ہو ئی ہو ہماری حکومت نے خندہ پیشانی سے تنقید کا سامنا کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں آر ایس ایس نظریے کی حکمرانی ہے کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے اور گزشتہ سال بھارت نے اس پر قبضہ کیا ہے بھارتی حکمران جماعت کے زیرتابع دہشتگرد تنظیم بھارت پر قابض ہے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج کے قبضے کے پوری دنیا پر اثرات آئیں گے ہم چاہتے ہیں کہ او آئی سی اس مسئلے کو بہتر طریقے سے اٹھائے دنیا بھارت کی مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کر رہی ہے لیکن ہم اس مسئلے کو اجاگر کرتے رہیں گے ۔سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہترین برادرانہ تعلقات ہیں ۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ جب حکومت سنبھالی تو بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا بدقسمتی سے بھارتی وزیراعظم نے امن کی پیشکش کو قبول نہیں کیا بھارت میں انتہا پسندوں کی حکومت ہے۔70 سال سے کشمیر بھارت اور پاکستان میں متنازعہ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل فوجی طاقت نہیں ہے پاکستان کے خلاف بھارت کچھ کرے تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کچھ ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا فلسطین کے معاملے پر یکطرفہ فیصلوں سے مسئلہ حل نہیں ہو گا جب تک اسرائیل فلسطین کو الگ ریاست نہ دے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا پاکستان آزاد فلسطین کی حمایت کرتا ہے اور اسی موقف پر قائم ہے۔پاک چین تعلقات کے سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا معاشی مستقبل چین کے ساتھ ہے ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے چین سے پہلے کی نسبت زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔ایک اور سوال کے جو اب میں انہو ں نے کہا کہ افغان مسئلہ کے حوالےسے میرامو¿قف یہی ہے کہ فوجی طاقت حل نہیں پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا حامی ہے مذاکرات اورافہام وتفہیم سےافغان مسئلے کاحل نکالا جاسکتا ہے افغانستان کی 19 سالہ جنگ میں بہت خون ریزی ہوئی۔ میں کہتارہا افغان مسئلے کاحل مذاکرات ہیں بعض عناصرافغان امن عمل کومتاثرکرناچاہتے ہیں پاکستان افغانستان میں امن کے استحکام کا حامی ہے افغان امن معائدہ ایک معجزہ ہے بھارت افغانستان میں معاملات میں مداخلت کر تا ہے 7گنا بڑا ملک پڑوسیوں کے معاملات میں مداخلت کرئے تو مسائل ہو تے ہیں ۔ ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایلیٹ کا قبضہ تھا جہاں امیر امیرتر ہو رہے تھے لیکن ہم نے پالیسیاں تبدیل کیںہماری تمام پا لیسیو ں کا محور پسماندہ طبقے کی ترقی ہے آئندہ سال سے ملک میں یکساں نصاب تعلیم نافذ ہو گا پاکستان کے لئے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ قومی مفاد میں کرینگے پہلی بار پاکستان کو اشرافیہ کے چنگل سے آزاد کررہے ہیں پہلی بار فیصلے غریب اور متوسط طبقے کو دیکھ کر کررہے ہیں پہلی بار پاکستان میں عوام کو ہیلتھ انشورنش دی جا رہی ہے۔ میڈیا کے حوالے سے کیے گئے سوال کا جواب دیتے ہو ئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا پر کوئی قدغن نہیں اور ہماری حکومت اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے میرے دور حکومت میں سب سے زیادہ تنقید ہوئی، ہماری حکومت نے خندہ پیشانی سے تنقید کا سامنا کیاایک صحافی 2سے3گھنٹے غائب رہا اس کی تحقیقات ہو رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ سول اورعسکری قیادت کے د رمیان بہترین تعلقات ہیں اور مل کر کام کر رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!