حکومت کو صحت کے شعبہ میں مشکل چیلنجز درپیش ہیں، وزیراعلی بلوچستان

حکومت کو صحت کے شعبہ میں مشکل چیلنجز درپیش ہیں، وزیراعلی بلوچستان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(آن لائن)وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں میڈیکل اسٹور ڈیپارٹمنٹ کے امور اور ادویات کی خریداری کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے مالی سال 2019-20 کے لئے ادویات کی خریداری کا عمل جاری رکھتے ہوئے اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی منظوری دی گئی جس کے تحت ایم ایس ڈی ادویات اور طبی آلات کی خریداری کرکے انہیں ضروریات کے مطابق ہسپتالوں کو فراہم کرے گا جبکہ مالی سال 2020-21 کی ادویات کی خریداری صوبائی کابینہ کے فیصلے کے تحت ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ کی سربراہی میں قائم کمیٹی ضلعی ہسپتالوں کی ضروریات کے مطابق ڈویژنل سطح پر کرے گی جبکہ طبی آلات اور اہم ادویات ایم ایس ڈی خریدے گا، پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی، سیکریٹری صحت دوستین جمالدینی، اسپیشل سیکریٹری صحت حافظ محمد طاہر، ڈی جی صحت ڈاکٹر شاکر بلوچ نے اجلاس میں شرکت کی، انچارج ایم ایس ڈی ڈاکٹر فہیم آفریدی نے اجلاس کو متعلقہ امور پر بریفنگ دی، اجلاس میں قدرتی آفات کے دوران محکمہ صحت کو ایمرجنسی بنیادوں پر ادویات اور ضروری طبی آلات کی خریداری کے لئے خصوصی فنڈز کے اجرا کا فیصلہ بھی کیا گیا اور صحت کے ڈویژنل ڈائریکٹریٹ کو مکمل طور پر بحال اور فعال بنانے، ڈویژن اور ضلع کی سطح پر ادویات کو اسٹور کرنے کے لئے کولڈ اسٹوریج کی سہولت کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، اجلاس میں کوئٹہ میں ایم ایس ڈی کی عمارت کی بہتری اور ادویات کی اسٹوریج کی استعداد میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ حکومت کو صحت کے شعبہ میں مشکل چیلنجز درپیش ہیں، ڈونرز اور نجی شعبہ کی کمی کے باعث تمام تر بوجھ سرکاری ہسپتالوں پر ہے جس کے لئے ہسپتالوں کی مینجمنٹ اور نتظامی امور کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعلی نے کہا کہ پارلیمانی سیکریٹری صحت، سیکریٹری صحت اور دیگر حکام کی صور ت میں محکمہ صحت میں ایک اچھی ٹیم موجود ہے، اگر صحت کے شعبہ کی کارکردگی میں پچاس فیصد بھی بہتری آتی ہے تو عوام میں پذیرائی ملے گی، انہوں نے کہا کہ ادویات کی خریداری، ٹرانسپورٹیشن اور اسٹوریج کے عمل میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے، وزیراعلی نے کہا کہ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث افسران ڈویژن اور ضلع میں فرائض کی ادائیگی نہیں کرپاتے، اگر سیاسی ول اور سرپرستی نہ ملے تو ادارے اور افسران کام کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے، حکومت اضلاع میں دفاتر اور رہائشی سہولتوں کو بہتر بناکر افسران کو سہولیات فراہم کرے گی اور محنتی اور باصلاحیت افسران کی بھرپور سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔#/s#

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!