لاہور: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے باہر نکلنے پر اعتراض ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ مجھے دوبارہ کیسے جیل میں ڈالیں۔شہباز شریف کراچی کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے لاہور پہنچے جہاں انہوں نے ایئرپورٹ پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام بارش میں ڈوب گئے لیکن وفاق نے سندھ حکومت کے خلاف سیاست کے علاوہ کچھ نہ کیا اور وہ کراچی میں کہیں نظر نہیں آئی، تاہم ہم کراچی کے عوام کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی اور وزیر اعظم ہوتا یا نوازشریف تو کراچی میں ڈیرے لگا کر بارش سمیت تمام مسائل کو حل کرتا، اپوزیشن مہنگائی کی بات کرے تو ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگتی ہے، اگر اپوزیشن چینی، آٹے، غربت، بے روزگاری کی بات کرے تو کہتے ہیں اپوزیشن این آر او مانگتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی اپوزیشن کے ساتھ انتقام کے بجائے معیشت پر توجہ دیتے تو صورتحال مختلف ہوتی، ہمیں دیوار سے لگا کر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر پابند سلاسل کیا گیا اور ظلم کا بازار گرم کیا گیا، جبکہ حمزہ شہباز کو اس لئے گرفتار کرکے جیل میں رکھا ہوا ہے کیونکہ وہ ان کا بیٹا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ عمران خان نیازی کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر اپوزیشن بھارت کی آواز سے آواز ملا رہی ہے، یہ بات وہ کر رہا ہے جو کہتا ہے نریندر مودی ان کا فون نہیں اٹھا رہا، یہ یوٹرن کے ماسٹر تھے اب اس سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا سے واپس آئے تو عمران خان نے کہا کہ ورلڈ کپ جیت کر آئے، کنٹینر پر کھڑے ہو کر غداری کا طعنہ دیا گیا لیکن جب کشمیر پر مودی نے ناجائز قبضہ اور لاک ڈاو¿ن کیا تو سب سے زیادہ بات اپوزیشن نے کی۔ان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کو میرے باہر نکلنے پر بہت اعتراض ہے، وہ سوچ رہے ہیں کہ اب شہباز شریف کو کیسے دوبارہ جیل میں ڈالیں، عمران خان بغض سے بھرے اور کینہ پرور ہیں اور ان میں انتقام کی آگ سلگ رہی ہے۔نواز شریف کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے معاملے میں عدالت کا حکم سر آنکھوں پر لیکن ہم عدالتوں سے بھاگے کب ہیں، نواز شریف کو جب ڈاکٹر اجازت دیں گے تو وہ عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے، میں نے، مریم اور حمزہ نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تو حکومتی عہدیداروں کو بھی احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے، عمران خان کی کابینہ کے لوگ کرپشن میں مبتلا ہیں اور خود کو دودھ کا دھلا کہتے ہیں۔
