اسلام آباد: پبلک اکاونٹس کمیٹی نے بجلی کمپنیوں کو عدم ادائیگی پر بجلی میٹرز اتارنے سے روک دیا ہے جبکہ ڈسکوز کی حالت بہتر بنانے کے لئے بورڈز کو بااختیار بنانے کے لئے حکومت کو ہدایت کی ہے ۔ وزارت پانی و بجلی میں اربوں روپے سے کی کرپشن کے مقدمات کی جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔پی اے سی کی ذیلی کمیتی کو وفاقی سیکرٹری توانائی نے بتایا ہے کہ گردشی قرضوں کا حجم 2100 ارب روپے ہو گیا ہے جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں 974 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر گردشی قرضوں کے حجم میں 2023 تک کمی کے لئے ایک جامع منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس راجہ ریاض کی صدارت میں ہوا جس میں سیکرٹری توانائی کی علی رضا بھٹہ نے بریفنگ دی ۔ اجلاس میں ایم این اے نور عالم ، حنا ربانی کھر اور شاہدہ اختر علی نے بھی شرکت کی ۔پی اے سی کو کرپشن سے متعلق مقدمات پر ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ کمیٹی نے سیکرٹری پانی و بجلی کو ہدایت کی کرپشن کے مقدمات کی جلد تحقیقات کی جائیں کیونکہ کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔ سیکرٹری نے کہا کہ بجلی بنانے میں جتنے اخراجات آتے ہیں صارفین سے ریکوری بھی اسی حسات سے ہوتی ہے ۔ دنیا بھر میں بجلی کی ریکوری سو فیصد نہیں ہوتی ۔ ڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لئے اصلاحات لا رہے ہیں ۔ نور عالم نے کہا کہ ڈسکوز پر حکومت کا 43 ارب روپے کا قرضہ ہے جبکہ بجلی کے دفاتر میں مافیا بیٹھے ہیں سیکرٹری توانائی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کرپشن بھی ہے نااہلی بھی ہے کسی بات سے انکار نہیں تاہم ڈسکوب کی بہتری کےل ئے بورڈز کے ممبران کو بااختیار بنانا ہو گا اور سی ای اوز کو بورڈ کے سامے جوابدہ ہونا چاہئے حنا ربانی نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں جو امیر اور غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں اسی وجہ سے معیشت متاثر ہو رہی ہے پی اے سی نے ہدایت کی کہ قانونکے تحت عدم ادائیگی پر بجلی کا میٹر نہیں اتارا جا سکتا ۔ صرف بجلی منقطع کر سکتے ہیں جبکہ سیکرٹری نے کہا کہ ادائیگی پر ہی آلات واپس لگا دیتے ہیں ۔
