وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے کرلے، کسی نے قانون توڑا تو جیل میں ڈالیں گے انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے الیکشن سے قبل ریاست مدینہ کی بات نہیں کی تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے یہ نعرہ لگارہا ہوں ریاست مدینہ میں کوئی قانون سے اوپرنہیں تھا، مدینہ کی ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی تھی سارے بے روزگار سیاست دان اکٹھے ہوگئے ہیں۔
عدالت فیصلہ کرتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے ہمارے ایک وزیر کے بھائی اور ان کے ترجمان نے نواز شریف کو آیت اللہ خمینی کے ساتھ ملادیا، کہاں آیت اللہ خمینی اور کہاں نہاری کھانے والا عوام چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے، چاہے یہ پیسے بانٹیں یا قیمے کے نان کھلائیں لوگ باہر نہیں نکلیں گے جتنے مرضی جلسے کرلو ، قانون توڑا تو جیل جاو¿گے، اس بار وی آئی پی جیل نہیں، عام قیدیوں والی جیل ہوگی، سارے بے روزگار سیاستدان اکٹھے ہوگئے ہیں، یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں یہ سمجھ رہے ہیں کہ سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کرلیں گے۔
یہ دو سال بھی جلسے کرلیں تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا کابینہ کی 6 گھنٹے کی میٹنگ میں ڈاکٹرز نے بتایا کہ نواز شریف کو اتنی بیماریاں ہوگئ?ں، نواز شریف کی بیماریوں کا سن کر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اگر شیریں مزاری کی آنکھوں میں آنسو آگئے تو سمجھ جاﺅں ہمیں کیسی کیسی بیماریاں بتائی ہوں گی لندن میں بیٹھا شخص لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اس کی چوری بچانے کے لیے باہر نکلیں، عوام چوری بچانے کے لیے نہیں نکلتے، چاہے یہ پیسے بانٹیں یا قیمے کے نان کھلائیں لوگ باہر نہیں نکلیں گے نوازشریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے، اسی لیے ان کی ہر آرمی چیف سے لڑائی ہوئی ظہیرالاسلام کو پتا تھا کہ نوازشریف نے کتنی چوری کی ہے اسی لیے نواز شریف نے ڈی جی آئی ایس آئی کی استعفیٰ مانگنے والی بات خاموشی سے سنی وفاقی کابینہ میں نواز شریف کی اتنی بیماریاں بتائی گئی تھیں کہ شیریں مزاری تک کی آنکھ میں آنسو آگئے ، مگر اتنی بیماریوں والے کو جیسے ہی لندن کی ہوا لگی اندر سے کوئی اور نوازشریف نکل آیاہم یہاں کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف آ کر عدالتوں کا سامنا کریں۔
دوسری جانب حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ملک میں مہنگائی ‘ بےروزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں جس سے عوام بتدریج تنگ ہوتے جا رہے ہیں اگر یہی حال اور پالیسیاں رہیں تو عوام کو سڑکوں پر لانے کیلئے کسی پی ڈی ایم تحریک کی ضرورت نہیں رہے گی لہذا حکومت پی ڈی ایم تحریک کو ناکام بنانا چاہتی ہے تو عوام کو ریلیف دے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔
