کوئٹہ:ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے کوئٹہ میں جلسے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ویسے ابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ جلسہ 25اکتوبر کو ہوگا یا 25نومبر کو، کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے کی کئی بار تاریخ تبدیل کی گئی ، کیا نواز شریف بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے بلوچستان میں کونسا ترقی کاکام کیا؟۔۔یہ بات انہو ں نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم اے کے جلسے کے حوالے سے کچھ سوالات رکھے تھے کہ کوئٹہ میں ایساکیوں کیاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کا جلسہ کامیاب نہیں ہوسکا، اب پی ڈی ایم والے کہہ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کوئٹہ کے جلسے سے خطاب کریں گے، جس جلسے سے میاں نواز شریف خطاب کررہے ہیں وہ ناکام ہورہاہے،حکومتی انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان میں جتنا کام ہوا اتناماضی کے ادوارمیں نہیں ہوا، اپوزیشن کو بلوچستان کی ترقی کھٹک رہی ہے،اانہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں یہ طے تھاکہ اس میں شریک جماعتیں ایک دوسرے سے معافی مانگیں گی، اب بھی پی ڈی ایم کے قیام سے پہلے شامل جماعتوں نے آپس میں معافی نہیں مانگی، بلوچستان میں ماضی میں مخلوط حکومتیں گرائی جاتی رہی ہیں،اس پرمعافی مانگی جائے،لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ڈاکٹرمالک بلوچ جن سیاسی اقدار کی بات کرتے ہیں پہلے اس پرعمل کرکے دکھائیں، نواز شریف نے نواب ثناءاللہ زہری کی حکومت گرانے سے بچانے کےلئے سنجیدگی نہیں دکھائی،انہوں نے کہا کہ یہ اشرافیہ کی لڑائی ہے،نواز شریف کو عدالت نے ڈس کوالیفائی کیا، لیاقت شاہوانی نے دعوی کیاکہ پی ڈی ایم کا کوئٹہ کاجلسہ کامیاب نہیں ہوگا، پی ڈی ایم کی قیادت بلوچستان کے عوام کےلئے کچھ نہیں لارہی، صرف اشتعال پیداکرنے آرہی ہے اور کورونالارہی ہے،پوری دنیا میں کورونا کی دوسری لہر جاری ہے،جلسہ سے کوروناپھیلنے کاخدشہ ہے۔
