لاہور: جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ ہم اختلاف رائے کا حق رکھتے ہیں اور رکھتے رہیں گے ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہئے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لیگی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملا قات کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ایاز صادق کا شکر گزار ہوں انہوں نے گھر بلایا اور ہمیں عزت دی،جو گفتگو ایازصادق نے کہی وہ انتہائی سنجیدہ ہے،ہمارے ملک میں اختلاف رائے کے حقوق ہونے چاہیے،ہم اختلاف رائے کا حق رکھتے ہیں اور رکھتے رہیں گے ہمیں کسی سے حب وطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہئے۔ ان کامزید کہنا تھا کہ واضح مؤقف ہے کہ 25 جولائی 2018 کو دھاندلی ہوئی،اس حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے،ہمارے ادارے بہت محترم ہیں اور ان اداروں میں لوگ اور بھی محترم کہتے ہیں، اس وقت ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے،ناجائز حکومت ہم پر مسلط نہ کی جائے،تمام ادارے اپنے اختیارات میں رہتے ہوئے ملک کو چلائیں تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے،ایسی احمق حکومت نہیں دیکھی جو آ بیل مجھے مار کی سیاسست کرتی ہے،یہاں تو بحران پیدا کیے جاتے ہیں،قیامت کی علامت ہے کہ مسلم لیگی غدار ٹھہرے ہیں آج، احتیاط کا دامن تھامے رکھنا چاہیے، تنقید سے کوئی بالاتر نہیں۔
