کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ 25اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کے صوبائی صدر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ، سنےئر رہنماءو سابق وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری ، صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ، تمام ڈویژنل اور ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریز اور پارٹی کے کارکنوں نے بھر پور کوشش کی اور جلسے کو کامیاب بنایا تاہم جلسے میں قائدین کی شرکت نہ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے پر مرکزی قیادت کی جانب سے صوبائی قیادت کو اعتمادمیں نہیں لیا جبکہ جلسے میں ویڈیو لنک کے ذرےعے جو بیانیہ پیش کیاگیا اس پر بھی پارٹی کی صوبائی قیادت نے تحفظات کا اظہار کیا تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے کسی قسم کا جواب نہیں ملا جس کے بعد صوبے کے تمام ڈویژنل، ضلعی صدور اور سنےئر رہنماﺅں کا اجلاس 7نومبر بروز ہفتہ کو طلب کیا گیا ہے جس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے مشترکہ فیصلے کئے جائیں گے ۔ ہفتہ کی رات کو مسلم لیگ(ن) کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 25اکتوبر کو کوئٹہ کے جلسے کو کامیاب بنانے میں پارٹی کے صوبائی صدر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، سابق وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری ، صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ سمیت ڈویژنل و ضلعی عہدایدوں اور کارکنوں نے بھر پور کردار اداکیا جبکہ نواب ثناءاللہ زہری بیرون ملک سے ذاتی طور پر کوئٹہ آئے اور جلسے کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے قائدین کی جلسے میں شرکت کرنے یا نہ کرنے جیسے سنجیدہ فیصلے پر صوبائی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جسکی وجہ سے پارٹی قیادت اور کارکنوں نے تشویش کا اظہار بھی کیا ترجمان نے کہا کہ 25اکتو برکے جلسے میں ویڈیو لنک خطاب میں جو بیانیہ استعمال ہوا اس پر بھی پارٹی کو تحفظات سے آگاہ کیا گیا تاہم تین روز تک پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں ہوا جس کے بعد میڈیا پر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کی پارٹی سے مستعفی ہونے سمیت مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں ترجمان نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی صوبائی قیادت ہر فیصلہ مشاورت سے کرتی ہے اسی لئے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے کے لئے پارٹی کے تمام ڈویژنل، ضلعی عہدیداروں کو مشترکہ اجلاس ہفتہ 7نومبر کو کوئٹہ میں طلب کرلیا گیا ہے جس میں موجودہ صورتحال ، پارٹی رہنماﺅں کو نظر انداز کرنے، 25اکتو بر کے جلسے میں بیانیے کاجائزہ لینے کے بعد مستقبل کا مشترکہ فیصلہ کیا جائےگا اجلاس کے فیصلے کے حوالے سے پریس کانفرنس بھی کی جائےگی ۔






