پنجگور : پنجگور میں صوبائی وزیرسوشل ویلفیئر وناں فارمل ایجوکیشن میر اسداللہ بلوچ کی زیر صدارت ضلعی آفسران کا ایک اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا جس میں سرکاری محکموں کی کارکردگی اور مسائل کا جائزہ لیاگیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی اور دیگر آفسران بھی موجود تھے ایجوکیشن آفیسر امجد شہزاد نے محکمہ ایجوکیشن کی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حوالے سے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی اور کہا کہ ہمارے 30 ہزار سے بچے اور بچیاں سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور 428 اسکول ہیں بوائز سکیٹر کے 179اسکول ہیں جبکہ گرلز سیکٹر میں 159اسکول ہیں اور ان میں سے 65 شلٹرلیس ہیں یا تو کسی کے مہمان خانے میں قائم ہیں یا جونپڑیوں کی شکل میں موجود ہیں جن کا کوئی زاتی بلڈنگ نہیں ہے اور چار ہائیئر سکینڈری اسکول ہیں اور ان میں مطلوبہ اسٹاف دستیاب نہیں ہے ہائیر سیکنڈری اسکول چتکان میں 120 اور سیکنڈری اسکول تسپ میں 135 طلباءزیر تعلیم ہیں ایجوکیشن آفسران کے لیے صرف ایک گاڑی ہے اور ڈپٹی ڈی اوز کے لیے دفاتر کی سہولت موجود نہیں ہے اور اسکولوں کی بلڈنگز کو مرمت کرنے کی ضرورت ہے اور کلسٹربجٹ محدود ہونے کی وجہ سے ان سے ریفیئر کے کام نہیں ہوسکتے ہے اور سب سے بڑا مسئلہ جو ایجوکیشن کی کارکردگی کے اگے رکاوٹ ہے وہ ہے ٹیچرز کی حاضریوں کا مسئلہ ہے اگر ان مسائل کو حل کیا جائے تو محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے دیگر محکموں کے سربراہوں نے بھی صوبائی وزیر کو کارکردگی رپورٹ پیش کیا اور مسائل سے انھیں اگاہ کیا صوبائی وزیرسوشل ویلفیئر میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جہالت سے کبھی بھی تبدیلی نہیں آئی بلکہ تبدیلی کے عمل میں ہمیشہ تعلیم یافتہ لوگوں کا کردار نمایاں رہا ہے انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن سے ہماری بقا وابستہ ہے اور اس اہم مسلے پر اگر ہم اب بھی سنجیدہ نہیں رہے تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی ایجوکیشن پر کسی قسم کا غفلت اور لاپرواہی ایک قومی خیانت ہے جسے کسی بھی صورت قبول میں قابل قبول نہیں ہوگا میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ اگر ایجوکیشن 25 فیصد زمہ داریاں ادا کرے اور 25 فیصد زمہ داریاں سیاست دان اور اسی طرح دیگر مکاتب فکرکے لوگ ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ تبدیلی رونما نہ ہوسکے معاشرہ تبدیل انہوں نے کہا کہ باشعور قوموں میں استاد کا بڑا معتبر مقام اور رول ہے پنجگور میں 2013 کے بعد پنجگور میں ایجوکیشن کے ساتھ جو کہلوار کیا گیا وہ نبشتہ دیوار ہے اس دوران غلط طریقے سے ان پڑھ اور بے تعلیم لوگوں کو ایجوکیشن پر مسلط کیا گیا جس کا نقصان اج پنجگور بھگت رہا ہے ایسے لوگ بھرتی کیئے گئے جو اس معتبر پیشے سے منسلک ہونے کی بجائے ڈرائیور اور کلنر کا کام کررہے ہیں اور اس سے زیادہ بدنصیبی اور کیا ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ ایجوکشن ہماری بقا ہے مفادپرستانہ روش اور پالیسیوں نے ایک نسل کا مستقبل تباہ کردیا ہے ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا ایک ان پڑھ کو لاکر ہم ٹیچر لگائیں گے تو اس سے تبدیلی تو نہیں ائے گا ظاہرہے اس طرح کے عاقبت نااندیش فیصلوں سے چور اور ڈاکو پیدا ہونگے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ میرا وڑن ہے کہ پنجگور کے غریب گھرانوں سے بھی انجینئر اور ڈاکٹر پیدا ہوں اور تعلیم عام ہو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مشکلات ضرور ہیں مگر ہم مایوس نہیں ہیں روشنی کو پانے کے لیے رکاوٹوں کو عبور کرنا کامیابی ہے اور میری کوشش ہے کہ پنجگور تمام شعبوں میں حقیقی تبدیلی لاوں اور ایجوکیشن کی صورت حال مایوس کن ہے کوچہ جات جن میں پروم گچک شامل ہیں ان علاقوں میں اسکول بند ہیں اور جس مقصد کے لیے ٹیچرز کو تنخواہیں مل رہی ہیں وہ مقصد فوت ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ ہیلتھ اور ایجوکیشن کو نظر انداز نہیں کرسکتے تبدیلی کا عمل پہلے خود سے شروع کرنا ہوگا تب ہم جاکر معاشرے کو تبدیل کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہائی سیکنڈری اسکولوں کی زیادہ ضرورت دہی علاقوں کلگ پروم گچک اور کیلکور ، گوارگو کو ہے کیونکہ یہ دوردراز علاقے ہیں جہاں ایجوکشن کے حوالے سے پسماندگی بھی ہے اور لوگ غربت کی وجہ سے شہروں تک اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکتے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ مجھے اپنے لوگوں کا حقیقی درد ہے اوریہ درد اس وقت کم ہوسکتا ہے جب عوام کی مشکلات اور تکالیف ختم ہوں گے انھیں تمام بنیادی سہولتیں مہیا ہونگی انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ملکر پنجگور کو عزت دار اور خوشحال بناناہے اور اس کے لیے اداروں کی مظبوطی اور فعالیت لازمی ہے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ ماضی کے برعکس اب حکومتی سطح پر بلوچستان انڈومنٹ فنڈز کے تحت مختلف بیماریوں جن میں کینسر ،دل ،گردے اور تھلسمیا کے مریضوں کا مفت علاج کیا جارہا ہے جو کسی بھی صوبے میں نہیں ہورہا انہوں نے کہا کہ صوبے کے بے روزگار نوجواںوں کے لیے بھی چینچی رکشوں کا اسکیم لارہے ہیں تاکہ نوجوان اس سے باعزت روزگار کرسکیں انہوں نے کہا کہ پنجگور میں یونیورسٹی میرا ایک خواب تھا جو اب تعبیر کی شکل میں موجود ہے جہاں ہمارے بچے اور بچیاں اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں اور انے والے وقتوں میں اسے مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا جہاں ایک ہزار سے زائد طلباءتعلیم سے فیضیاب ہوسکیں ۔






