حافظ آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہسیاسی مخالفین نے ملک میں سرکس لگا رکھی ہے، ماضی میں نیب غلام آج آزاد ہے، یہ چاہتے ہیں نیب کو ختم کر دیا جائے تاکہ ان کی چوری چھپ جائے، لندن کی ہوا لگتے ہی نواز شریف کی ساری بیماری ختم ہوگئی، جتنے مرضی جلسے کرلو، جب تک پیسہ واپس نہیں کرتے، نہیں چھوڑوں گا۔نواز شریف اپنی چوری بچانے کے لئےاس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ بھارت کی زبان بول رہے ہیں ، حکومت کا فرض ہے کہ عوام کی ضروریات کو پورا کیا جائے، رواں سال کے اختتام تک پنجاب کے 50 فیصد عوام کی ہیلتھ انشورنس ہوجائے گی، جس سے ہر خاندان کا 10 لاکھ روپے کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ اسپتال میں مفت علاج ہوسکے گا، 2021 میں پنجاب کی تمام آبادی کو صحت کارڈ کی سہولت دستیاب ہوگی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے، میری وجہ سے نہیں، ان جیسے لوگوں کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے ، چیلنج کرتا ہوں میرے علاوہ کس نے ناموس رسالتﷺکا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا؟ میں یہ سب ووٹ کے لیے نہیں کیا بلکہ یہ میرے ایمان کا معاملہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا وزیر اعظم عمران خان نے شاندار استقبال پر حافظ آباد کی عوام کا شکریہ ادا کر تے ہو ئے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ عوام کی ضروریات کو پورا کیا جائے ہم نے حافظ آباد میں یونیورسٹی اور 400بیڈز پر مشتمل ڈسٹرکٹ ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا ہے انشااللہ ہسپتال اور یونیورسٹی کو بہت جلد مکمل کریں گے ، رواں سال کے اختتام تک پنجاب کے 50 فیصد عوام کی ہیلتھ انشورنس ہوجائے گی، جس سے ہر خاندان کا 10 لاکھ روپے کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ اسپتال میں مفت علاج ہوسکے گا، 2021 میں پنجاب کی تمام آبادی کو صحت کارڈ کی سہولت دستیاب ہوگی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے غریبوں کے لیے پناہ گاہوں کا منصوبہ شروع کیا، روٹی ،کپڑا اور مکان کی بات تو پہلے بھی کی گئی لیکن اب حقیقی معنوں میں غریب اپنا گھر بناسکیں گے، نیا پاکستان ہاوَسنگ منصوبے کے تحت غریب لوگ بھی اپنا گھر بناسکیں گے، گھر بنانے کے لیے 5 فیصد سود پر عوام بینکوں سے قرضے لے سکیں گے،ملک سے غربت کم کرنے کے لیے پالیسیاں بنارہے ہیں، پختونخوا میں کوئی بھی جماعت دوبارہ برسر اقتدار نہیں آئی لیکن 2018 میں پی ٹی آئی کو دوبارہ موقع ملا، خیبرپختونخوا میں 9 فیصدغربت کم ہوئی اس لیے لوگوں نے پی ٹی آئی کو دوبارہ ووٹ دیا۔وزیراعظم نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی کے لیے ہم کام کررہے ہیں، ان کے دور میں نیب غلام تھا جب کہ ہمارے دور میں نیب آزاد ادارہ ہے، ہم نے ان کے خلاف نئے کیسز نہیں بنائے، یہ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے تھے، جب ان کا سرکس لگتا ہے تو اس میں سب قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان لوگوں نے پوری کوشش کی کہ منہگائی ہوگئی ہے اسے نکال دو، یہ کہتے ہیں کہ ان سے چوری کا نہ پوچھا جائے، جب میں نہیں مانا تو انہوں نے اداروں پر حملے شروع کیے، یہ جتنے مرضی جلسے کریں جب تک لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں کریں گے انہیں نہیں چھوڑوں گا۔نواز شریف سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف نے ایسی عجیب شکل بنائی کہ کابینہ میں بھی 2 خواتین کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن لندن جاتے ہی نواز شریف کی ساری بیماریاں ختم ہوگئیں، نواز شریف اپنی چوری بچانے کے لئے اس حد تک پہنچ گئے کہ بھارت کی زبان بول رہے ہیں، انھوں نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف پر حملے شروع کردیے، وہ آدمی لندن میں بیٹھ کر ہماری فوج کے خلاف سازش کررہا ہے، میں پہلا کپتان تھا جس نے بھارت جاکر ان کی ٹیم کوہرایا، میں نوازشریف جیسے میر جعفر، میر صادق اور میر ایاز صادق کامقابلہ کروں گا۔مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے، میری وجہ سے نہیں، ان جیسے لوگوں کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے ، چیلنج کرتا ہوں میرے علاوہ کس نے ناموس رسالتﷺکا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا؟ اور میں نے یہ سب ووٹ کے لیے نہیں کیا بلکہ یہ میرے ایمان کا معاملہ ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ ملکی تاریخ میں صرف1970میں شفاف انتخابات ہوئے اس کے لیے علاوہ ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگے، 2018 کے انتخابات پر ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہم حلقے کھولنے کے لیے تیار ہیں، (ن) لیگ نے دھاندلی پر صرف 11 درخواستیں دائر کیں،میں کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار نیوٹرل ایمپائرلایا، جب بھارت کی ٹیم پاکستان آئی تو ہم نے نیوٹرل امپائر کے ساتھ میچ کھیلا، ہم ایسا الیکشن کروائیں گے کہ جو ہارے گا وہ بھی مانے گا کہ الیکشن شفاف ہوئے، شفاف الیکشن کروا کر دوبارہ ہم منتخب ہو گے ،الیکٹرانک ووٹنگ پر بھی کام کررہے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا سفر شروع ہو چکا ہے کم ا ٓمدنی والوں کو گھروں کی تعمیر میں معاونت دی جا رہی ہے ہماری پالیسوں کا محور پسماندہ طبقے کی ترقی ہے انشااللہ پاکستان عظیم قوم بنیں گے ریاست مدینہ میں بھی سب پر قانون کا یکساں اطلاق ہو تا تھا ہماری کو شش ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور ملک ترقی کرے
