ماہر حیاتیات چارلس ڈاروِن کی 2 کتابیں کیمبرج یونیورسٹی سے چوری

ماہر حیاتیات چارلس ڈاروِن کی 2 کتابیں کیمبرج یونیورسٹی سے چوری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی لائبریری نے کہا ہے کہ نظریہ ارتقا پیش کرنے والے معروف ماہرِ حیاتیات چارلس ڈاروِن کی 2 کتابیں غائب ہوگئی ہیں جن سے متعلق یقین ہے کہ وہ چوری ہوگئی ہیں۔ فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چوری ہونے والی کتابیں ڈاروِن کے نظریہ ارتقا سے متعلق ان کے اہم خیالات اور ان کے معروف ‘ ٹری آف لائف ‘ کے خاکوں پر مشتمل تھیں۔ برطانوی سائنسدان نے رائل نیوی کے بحری جہاز ایچ ایم ایس بیگل کے سفر سے واپس آنے کے بعد 1837 میں چمڑے کی یہ نوٹ بکس لکھی تھیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کی لائبریری کے مطابق ان کتابوں کی مالک لاکھوں پاؤنڈز تھی۔ ان میں سے ایک کتاب میں چارلس ڈاروِن نے ایک تصویر ( diagram) بنائی تھی جس میں انہوں نے نوع کے ارتقا کے متعدد امکانات دکھائے تھے۔ بعدازاں 1859 میں شائع کی جانے والی کتاب ‘نوع کے ارتقا'(On the Origin of Species) میں انہوں نے اس کی مزید بہتر منظر کشی پیش کی تھی۔ یونیورسٹی آف کمیبرج کی وسیع لائبریری نے2001 میں ان نوٹ بکس کو اس وقت گمشدہ قرار دے دیا تھا جب انہیں فوٹوگرافی کے لیے اسپیشل کلیکشنز اسٹرونگ رومز سے باہر منتقل کیا گیا تھا۔ طویل عرصے سے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ انہیں عمارت کے اندر غلط طریقے سے رکھا گیا تھا جس میں تقریباً ایک کروڑ کتابیں، نقشے اور مسودے شامل ہیں اور اس میں دنیا کی اہم ترین ڈاروِن آرکائیوز بھی شامل ہیں۔تاہم اس سال بڑے پیمانے پر کی جانے والی تلاشی میں کتابیں نہیں مل سکیں۔ لائبریری نے ایک بیان میں کہا کہ ‘مہتممین نے یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ کتابیں شاید چوری ہوچکی ہیں’۔ بیان میں کہا گیا کہ مقامی پولیس کو آگاہ کردیا گیا ہے اور کتابوں کو چوری شدہ آرٹ ورکس سے متعلق انٹرپول کے ڈیٹا بیس میں شامل کردیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!