برطانیہ نے راؤانوار پر پابندی لگادی، اثاثے منجمد

برطانیہ نے راؤانوار پر پابندی لگادی، اثاثے منجمد

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

واشنگٹن : امریکا کے بعد برطانیہ نے بھی جعلی پولیس مقابلوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہونے پر سندھ پولیس کے سابق ’انکاونٹر اسپیشلسٹ‘ راؤ انوار پر سفری پابندی عائد کردی اور تمام اثاثے بھی منجمد کردیے۔ برطانیہ نے رواں سال انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کے تحت دنیا بھر سے 65 شخصیات اور 4 کمپنیوں، اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ پاکستان سے راؤ انوار اس فہرست میں شامل ہیں۔ اس پابندی کے بعد راؤ انوار برطانیہ کا سفر نہیں کرسکیں گے اور ان کے برطانیہ میں تمام اثاثے منجمد ہوجائیں گے۔ حکومت نے راؤ انوار کو فہرست میں شامل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راؤ انوار خان پاکستان کے ضلع ملیر میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) رہے ہیں۔ ایس ایس پی ملیر کی حیثیت سے راؤ انوار خان مبینہ طور پر متعدد جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث تھے جن میں پولیس کے ہاتھوں لوگ مارے گئے۔ راؤ انوار خان نے براہ راست 190 سے زیادہ پولیس مقابلے کیے جن کے نتیجے میں نقیب اللہ محسود سمیت 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس لیے راؤ انوار انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی میں ملوث ہیں۔‘ امریکا نے بھی گزشتہ برس انہی الزامات کے تحت راؤ انوار پر پابندی عائد کی تھی۔ امریکی حکومت نے اپنے بیان میں لکھا تھا کہ راؤ انوار نے 190 جعلی پولس مقابلوں میں 400 سے زیادہ افراد کو قتل کیا۔ اس کے علاوہ راؤ انوار جرائم پیشہ عناصر کا نیٹ ورک چلاتے اور اس کے ذریعے بھتہ خوری، منشیات فروشی اور زمینوں پر قبضے کرتے رہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!