نوشکی ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی نے اپنے جاری بیان میں کہاہےکہ گوادر شہر کو باڑ لگانے کے عمل سے نفرتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور شہری آزادی صلب کرنے کے مترادف ہوگا ۔گوادر سے متعلق بی این پی اور بلوچ قوم کے تحفظات آج یقین میں تبدیل ہورہا ہے وفاق گوادر کو چھین کر وہاں کے آباد بلوچ باسیوں پر سیکورٹی کے نام پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے درپے ہے ۔ایسا کوئی بھی عمل عملا غیر قانونی اور جبر کے مترادف ہوگا ۔باڑ لگانے سے گوادر کے لوگوں کی تشویش یقینی امر ہے سیکورٹی ادارے نفرتوں میں مزید اضافہ کرکے نا جانے کونسے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بی این پی شروع سے گوادر سے متعلق وفاق کے عزائم سے بلوچ عوام کو وقتا فوقتا آگاہ کرتی آرہی ہے اور ہمارے خدشات و تحفظات کے مطابق وفاق اور سیکورٹی ادارے اپنے ہی وطن میں اپنے ہی لوگوں کے ساتھ اسرائیل اور فلسطین و کشمیر جیسا رویہ اختیار کرنے جارہے ہیں ۔باڑ کی تنصیب عملا مقامی آبادی کو ایک بڑے جیل میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے ۔سیکورٹی ادارے گوادر کو گوانتاموبے جیل بنانا جارہے ہیں ۔شہریوں اور مقامی آبادی کی احتجاج تشویش اور خدشات کو یکسر مسترد کرکے وفاق اپنے غلط ناروا فیصلے بلوچ آبادیوں پر مسلط کررہی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔حکمرانوں کو گوادر کے صدیوں سے آباد باسیوں سے کوئی سروکار نہیں بلکہ انکی نظریں گوادر کے وسائل پر لگی ہوئی ہیں گوادر کے باسیوں کو پانی اور زندگی کی سہولیات کے فراہمی کے بجائے کروڑوں روپے کے لاگت سے باڑ کی تنصیب پر خرچ کررہے ہیں یہ انسانی حقوق اور شہری آبادی کے حقوق کی مکمل خلاف ورزی ہے اور اس پر بی این پی سمیت تمام سیاسی کارکن ہرگز خاموش نہیں بھیٹیں گی کٹھ پتلی صوبائی حکومت کی خاموشی مجرمانہ عمل ہے اور ایسے لوگوں کو تاریخ ہرگز معاف نہیں کریگی ۔گوادر کے آبادی کو سیکورٹی و باڑ کے آڑ میں ایک بڑے جیل میں بند کرنے کے عمل کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اور تمام محب وطن عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناروا عمل کے خلاف احتجاج کریں جبکہ وفاق اور سیکورٹی ادارے بھی اپنے فیصلے کو فورا واپس لیکر نفرتوں میں مزید اضافہ سے گریز کریں ۔





