ایرانی صدر کا صحافی کی پھانسی کا دفاع، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ خوفزدہ

ایرانی صدر کا صحافی کی پھانسی کا دفاع، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ خوفزدہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ایران: صدر حسن روحانی نے اختلاف رائے رکھنے والے نامور صحافی کو پھانسی دیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ روح اللہ زام کی سزائے موت پر قانون کے مطابق عمل کیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق حسن روحانی نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘یورپی ممالک کو اس پر تبصرہ کرنے کا حق حاصل ہے لیکن روح اللہ زام کو عدالتی احکامات کے مطابق پھانسی دی گئی جبکہ ملک میں عدلیہ آزاد ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اس سے ایران اور یورپ کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا’۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی قریبی نیوز ایجنسی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ روح اللہ زام کو عراق میں حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں 2017 میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مشل بیچلیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘میں 12 دسمبر کو ایران میں روح اللہ زام کی پھانسی پر خوفزدہ ہوں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ان کی سزائے موت اور پھر پھانسی کے ذریعے اس پر عملدرآمد تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے جبری اعتراف کی نشاندہی کرتا ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!