فیس بُک اب دماغ بھی پڑھ سکے گی؟

فیس بُک اب دماغ بھی پڑھ سکے گی؟

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

واشنگٹن : پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول ترین سائٹ فیس بک ایسا سینسر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو لوگوں کے خیالات کا پتہ لگا کر ان کو عملی شکل دے سکے۔ یہ افواہیں کئی برس سے گردش کر رہی ہیں کہ فیس بک کسی نیورل آلے پر کام کر رہی ہے، تاہم اس کی حتمی شکل کے بارے میں بہت کم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اب فیس بک کی سالانہ میٹنگ میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر نے ایسے سینسر کی تفصیلات بتائیں جو لوگوں کے دماغ سے ملنے والے احکامات پڑھ سکے۔ سالانہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ کلائی پر لگایا گیا سینسر دماغ سے آنے والے اعصابی سگنل کو پڑھتا ہے۔ اس آلے کی مدد سے لکھنے، ویڈیو گیم کنٹرول کرنے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ فیس بک ایک ایسا ٹول بھی تیارکررہی ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے خبروں اور مضامین کا خلاصہ لکھ سکے، تاکہ صارفین کو پوری تحریر پڑھنے کی ضرورت نہ ہو۔ یہ ٹول مضامین پڑھ بھی سکے گا اور سامعین سوال بھی پوچھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم سب کو مستقبل دیکھنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے کیونکہ ہم خود اسے بنا رہے ہیں۔‘ شروپفر نے یہ بھی کہا کہ اس آلے کو متعارف کروانے سے پہلے لوگوں کے ذہنوں میں کمپنی کی پرائیویسی پالیسی کے تصور جیسی چیزوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہو گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ’ہمیں ذمہ داری لینا ہوگی کہ ہم لوگوں کا اعتماد حاصل کر سکیں اور پھلیں پھولیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اسے ٹھیک طریقے سے کریں تاکہ دنیا بھر کے لوگوں کو یہ حیران کن ٹیکنالوجی دیکھنے کو ملے، مگر بغیر مضر اثرات کے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!