مولانافضل الرحمان اجرتی سیاست دان ہیں وہ حصول اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مولانا عبد القادر لونی

مولانافضل الرحمان اجرتی سیاست دان ہیں وہ حصول اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مولانا عبد القادر لونی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے نائب امیر مولانا عبد القادر لونی نے کہا ہے کہ مولانافضل الرحمان اجرتی سیاست دان ہیں وہ حصول اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مولانا این آر او کے لیے وکیل بن چکے ہیں ،مولانا نے اپنے بیٹے کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور بھائی کو سینیٹر بنایا،ہم نے مولانا فضل الرحمن کی موروثی سیاست، حصول اقتدار اور کرپشن کے بعد اپنے آپ کو الگ کیا،پی ڈی ایم مفاد پرست ٹولہ ہے۔ہفتہ کو جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے نائب امیر مولانا عبد القادر لونی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مولانافضل الرحمان اجرتی سیاست دان ہیں وہ حصول اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مولانا این آر او کے لیے وکیل بن چکے ہیں ،پی ڈی ایم پلاننگ کے ساتھ ملک کے خلاف سرگرم ہے مولانافضل الرحمان نے پختونوں کو بے غیرت کہا،مولانافضل الرحمن اقتدار کے حصول کے لیے گالیوں ہر اتر آئے ۔انہوں نے کہا کہ مولانافضل الرحمان پانی کا بلبلا ہیں پی ڈی ایم استعفوں پر تقسیم ہے ،جلد استعفوں پر پی ڈی ایم یوٹرن لے گی،جن چار لوگوں کو پارٹی سے نکالا گیا وہ ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں،مولانافضل الرحمن موروثی سیاست کررہے ہیں،مولانا نے اپنے بیٹے کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر اور بھائی کو سینیٹر بنایا،ہم نے مولانا فضل الرحمن کی موروثی سیاست، حصول اقتدار اور کرپشن کے بعد اپنے آپ کو الگ کیا،پی ڈی ایم مفاد پرست ٹولہ ہے ۔ مولانا عبد القادر لونی نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان چاہتی ہے موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے،2008 کے بعد ہم نے مولانافضل الرحمن سے کنارہ کشی کرکے اپنی سیاسی جماعت بنائی،1988 سے مولانا فضل الرحمان نے موروثی سیاست، جھوٹ اور کرپشن ڈے اکابرین کو بدنام کیا،کرپشن،خیانت اور جھوٹ سے باز نہ آنے پر ہم نے ان سے راستہ الگ کیا،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے باریاں لگا کر حکومت کی،اب قانون کے مطابق دونوں جماعتیں تحریک انصاف کو بھی پانچ کی مدت پوری کرنے دیں،حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں، جمہوری استحکام کیلئے پارلیمنٹ کردار ادا کرے،پی ڈی ایم اور دھرنے صرف حصول اقتدار اور موروثی سیاست کی خواہش ہے،پی ڈی ایم پارلیمانی نظام کے خلاف بغاوت، آئین اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے،پی ڈی ایم کی قیادت ماضی قریب میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگا چکے ہیں،اپوزیشن کی سیاسی محاذ آرائی سیاست اور جمہوریت کیلئے نقصان پہنچانے کا موجب بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم استعفوں کے معاملے پر واضح طور پر تقسیم اور اختلاف کا شکار ہے،مولانا شیرانی نے امریکہ اور اسرائیل سے وفاداری کا سرٹیفیکیٹ لینے کیلئے اسرائیل کے تسلیم کرنے کا ایجنڈا اٹھایا،ماضی میں وفاق کی نظر اندازیوں سے بلوچستان 79 سال سے سہولیات سے محروم ہے،سی پیک کے مغربی روٹ میں ترجیحات شامل کیے بغیر ابھی تک کام۔شروع نہیں کیا گیا، مولانا قادر لونی مولانا شیرانی بھی سلیکٹڈ تھے اور فضل الرحمان بھی سلیکٹڈ ہیں مولانا شیرانی نے جعل سازی کی بنیاد رکھی جسے اب مولانا فضل الرحمان نے پروان چڑھایا دونوں رہنماں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!