لاہور :امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ اگر وزیر اعظم بروقت ریکوڈک معاملات میں فیصلہ نہیں کرتے تو وہ کیا کر رہے ہیں؟ ایک خط بروقت نہ لکھنے کے باعث پاکستان کو چھ ارب بیس کروڑ ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے ۔ حکومت کی نااہلی اور کاہلی کے باعث پی آئی اے کے تمام اثاثے دائو پر لگ چکے ہیں ۔حکومتی کابینہ کے اجلاس میں سیاسی مخالفین کی سر کوبی کی بجائے قومی مسائل پر توجہ دیں۔ اگر وزیر اعظم کو اس معاملے کی سمجھ نہیں ہے تو وہ کسی پڑھے لکھے آدمی سے پوچھ لیں ۔ سپریم کورٹ اس پر عدالتی کمیشن قائم کرے تاکہ اب تک کی تمام کاروائی قوم کے سامنے آ سکے۔ جماعت اسلامی 27دسمبر اتوار کو لکی مروت میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بڑا جلسہ عام کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں کارکنان کی تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے ایک واضح منشور اور ایجنڈے کے ساتھ میدان میں ہے۔ ہماری جدوجہد ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے ہے۔ اسلامی نظام ہی ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جلد پاکستان کرونا وائرس اورملک کو نقصان پہنچانے والے سیاسی وائرس سے نجات پائے گا۔اڑھائی سال بعد تربیت نہ ہونے کے باعث وزیراعظم کے بیانات دراصل اپنی اور ٹیم کی نااہلی کا اعتراف ہے۔ وزیراعظم نے اپنے گھر کو قانونی بنا کر ماضی کے اپنے دعوے کی خود نفی کی ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر شوگرمافیا، لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، چینی مافیا اور آٹا مافیا کا صحیح معنوں میں احتساب کرے گی۔سراج الحق نے کہا کہ 950دنوں میں بجلی، گیس، پیٹرول، آٹا، چینی اور ادویات کی قیمت میں سو سے تین سو گنا تک اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کا پاﺅں عوام کی گردنوں اور ہاتھ جیب پر ہے۔ پی ٹی آئی کا سونامی اللہ کا عذاب ہے جس سے قوم جلد نجات پائے گی۔ بیرون ملک سے امپورٹ کیے گئے وزیروں اور مشیروں کو عوام کے حقیقی مسائل کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ جن غریبوں نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دیں ان سے علاج، تعلیم اور روزگار چھین لیا گیا ہے۔ ان کو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ جماعت اسلامی اور اسلامیان پاکستان ختم نبوت کے تحفظ کے لیے بیدار ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیںکریں گے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نااہلی کے خلاف تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔
