پولیس کے ہاتھوں نوجوان قتل،مقدمہ درج،والد کے لرزہ خیز انکشافات

پولیس کے ہاتھوں نوجوان قتل،مقدمہ درج،والد کے لرزہ خیز انکشافات

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد :جی 10 میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے اسامہ کے قتل کی ایف آئی آر درج کر دی گئی جبکہ مقتول کے والد نے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں اے ٹی ایس پولیس اہلکاروں کی جانب سے جی ٹین میں گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں گولیاں لگنے سے گاڑی کا ڈرائیور 22سالہ طالبعلم اسامہ ستی موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا،اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کا مقدمہ تھانہ رمنا میں درج کیا گیا ہے اورمقدمہ دہشتگردی اوراقدام قتل کی دفعات کےتحت مقتول کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا، ایف آئی آر 7اے ٹی اے کے تحت درج کی گئی اور ایف آئی آر میں 302 کی دفعات میں لگائی گئی ہیں۔تاہم ایف آئی آر میں اسامہ کے والد نے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ سائل کا جواں سالہ بیٹا اسامہ ندیم رات، دو بجے دوست کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا، مدثرمختار، شکیل احمد،سعیداحمد،محمدمصطفے،افتخاراحمدنامی پولیس اہلکاروں کی مقتول سےتلخ کلامی ہوئی اور اسامہ ندیم نے ان پولیس اہلکاروں سے جھگڑے کا والد سے ذکر کیا تھا،پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو دھمکی بھی دی تھی کہ تمھیں مزہ چکھائیں گے،گذشتہ رات ان پولیس اہلکاروں نے مقتول بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کیااور پانچوں پولیس اہلکاروں نے دہشتگردی اوردرندگی کا مظاہرہ کرکے نوجوان کو مارا،مین شاہراہ پر نوجوان شہری کی گاڑی پر 17 گولیاں چلائیں گئیں۔ دوسری جانب ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر لی گئی جس میں پولیس کا گاڑی کو عقب سے ٹائروں پر گولیاں مارنے کا موقف غلط نکلا،گاڑی کو سامنے سے پانچ گولیاں ماری گئیں اور گاڑی کو دونوں اطراف سے بھی گولیاں ماری گئیں،مقتول اسامہ کی موت سامنے سے ماری گئی گولیاں لگنے سے واقع ہوئی اور گاڑی پر مجموعی طور پر 17 گولیاں لگیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!