کوئٹہ : مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے 10 کان کنوں کے قتل کے خلاف لواحقین اور ہزارہ برادری کا کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر میتوں کے ہمراہ دھرنا آج بروز جمعرات 7 جنوری کو 5 ویں روز بھی جاری ہے۔ بلوچستان کی خون جما دینے والی سردی کے باوجود اپنے پیاروں کو یاد کرتے لواحقین اور ہزارہ برادری کے افراد میتوں کے ہمراہ دھرنے میں موجود ہیں۔ دھرنے میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔ مظاہرہن نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ روز 6 جنوری بروز بدھ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی دھرنے پر پہنچے اور شرکاء سے میتوں کی تدفین کی درخواست کی لیکن ان کی کوششیں بھی بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔ دھرنے کے شرکاء نے وزیراعظم عمران خان کی کوئٹہ آمد تک دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین سے انکار کیا ہے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سانحہ مچھ کے خلاف آج بروز جمعرات 7 جنوری کو شڑ ڈاؤن ہڑتال کی کال پر ہڑتال جاری ہے۔ اس موقع پر تمام بازار ، دکانیں اور کاروبار بند ہے۔ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل تاجر برادری کی جانب سے کی گئی تھی۔ سانحہ مچھ کے خلاف کراچی کے18 مقامات پر احتجاج جاری ہے۔ شارع فیصل ناتھا خان کے مقام پر ٹریفک کے لئے بند کردی گئی ہے، جس کی وجہ سے ملیر سے ٹاور آنے والے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ کئی اہم شاہراہوں پر بھی ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس میں ڈرگ روڈ، رابعہ سٹی، مرکزی انچولی، کے ڈی اے نارتھ کراچی، نمائش چورنگی، شارع فیصل، کالونی گیٹ، پاور ہاؤس چورنگی، ابوالحسن اصفہانی روڈ، ملیر 15، ناتھا خان پل، نیپا چورنگی، عباس ٹاؤن ، کریم آباد، سفاری پارک، عائشہ منزل، صفورا چورنگی، کامران چورنگی، پورٹ قاسم، قائد آباد، ملیر کینٹ، انڈس ہائی وے، میمن گوٹھ، شاہ فیصل، داؤد چورنگی، کھوکھرا پار، پاؤر ہاؤس چورنگی اور کیہور شامل ہیں۔ کوریڈ ور اور سولجر بازار کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے لاہور کی مصروف ترین روڈ مال روڈ پر بھی مجلس وحدت المسلمین کا احتجاج اور دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔ گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے اور مظاہرے میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں
