تحریر-پروفیسرغلام دستگیرصابر
میں مسلسل سوالوں اور الزامات کی زد میں ہوں۔خوب مجھ پرطنزکے نشترچلائے جارہے ہیں۔صابرصاحب تمہاراقلم کیوں خاموش ہے؟صابرصاحب اب سرداروں کی دھمکی کی وجہ سے چپ ہو؟بہت لکھتے تھے دیکھاانجام؟آئندہ لکھوگے یاتوبہ کی؟؟پروفیسرتم کوبہت سمجھااب سمجھ گئے؟؟اس طرح کے بے شمارطنزیہ فقرے مجھ پراپنے بیگانے سب کستے ہیں۔لیکن بظاہرمیں بھی خاموش میرا قلم بھی خاموش مگرمیرے اندرایک آگ لگی ہوئی ہے۔سینکڑوں سلگتے عنوانات ہیں۔کیالکھوں؟؟اس ناانصاف وکیل کی کہانی لکھوں جس نے صرف بیس ہزار روپے لیکرمیرے چورکی وکالت کی؟؟اور انصاف کی وردی پہن کرانصاف کاگلہ گھونٹا۔لعنت تمہاری وکالت پرجس نے ایک چورکی وکالت محض چندروپوں کی خاطرکی اس جج کے انصاف پرماتم کروں جس نے مجھ جیسے ایک زمہ دارسرکاری ملازم کابیان لئے بغیرمیرے چوروں کو باعزت بری کیا۔اس کم ظرف وکیل پرلعنت بھیجوں جس نےچندہزارروپے لیکر ڈیڈھ سال پہلے نوشکی کے معصوم بچے چنگیزکے ساتھ جنسی درندگی کے ملزم کی وکالت کی اور اسے باعزت بری کروایا۔میں اس سفیدپوش بزرگ کادردناک دکھ بیان کروں جوشرم سے اپناچہرہ چھپاکرگل خان نصیرچوک نوشکی میں دامن پھیلاکراورپھوٹ پھوٹ روکرکہتاہے۔میرے بچے دودن سے بھوکے ہیں انھیں مرنے سے بچاو۔اس نوجوان طالب علم مشتاق حسین کادردناک المیہ لکھوں جس نے بلوچستان بھرمیں تیسری پوزیشن لی۔وہ بدبخت اپنے بوڑے والدین کاسہاراتھا۔کوئلے کے کالے کان میں کام کرکے اپنے بوڑے والدین کاپیٹ پالتارہااورتعلیم بھی حاصل کرتارہا۔وہ مستقبل کاڈاکٹراورانجنئیرتھا۔مگربدبختوں نے اس کاگلہ کاٹا۔میں کیسے معصومہ ہزارہ اور اسکی پانچوں بہنوں کی دردناک کہانی لکھوں جس کے اکلوتے بھائی کو درندوں نے جانورکی طرح زبح کیااب گھرکے اکلوتے فرزندکوقبرمیں اتارنے کے لئے گھرکاایک مردبھی موجودنہیں۔کیاان بوڑے والدین کی دردناک نالے اورپرسوزنوحے بیان کروں جن کے جگرگوشوں کودرندوں نے گولیوں سے بھون ڈالا۔اس بوڑی ماں کی کیفیت بیان کروں جوجوان بیٹے کی تازہ قبر کی مٹی کوبوسہ دے رہی ہے؟میں کیسے اس بہن کاافسانہ لکھوں جسکی شادی کوصرف اٹھارہ دن گزرےتھے۔وہ کتنی خوش تھی کہ اسکادولہاکل آئیگا۔مگردولہے کی جگہ دولہاکی خون آلود لاش پہنچ گئی۔میں ان بوڑے والدین کاکن الفاظ میں دکھ بیان کروں جن کے جوان بیٹوں کی لاشیں تابوت میں بند ان کے سامنے رکھی ہوئی ہیں اور وہ ایک ہفتے سے ٹٹھرتی سردی میں زندہ لاش بن کراحتجاج کررہی ہیں۔؟؟
میں اس سات سالہ سکینہ کی معصومیت کاکیالکھوں جو اپنے باپ کی تابوت کو ہلاہلاکر کہتی ہے۔بابا چلو گھرچلتے ہیں۔آپ کے بغیرہم کھانانہیں کھاتے۔اٹھو باباگھرچلو۔
حکومت کے گدھ ور اپوزیشن کے سارے مسخرے ان لاشوں پرسیاست کررہے ہیں۔اب بہت ہوچکا۔خدا کی قسم بہت ہوچکا۔رب پاک کی رحمانیت کی کوئی حد ہی نہیں مگر وہ جبار اور قہار بھی ہے۔رب پاک کی قسم معصومہ ہزارہ اور ہزاروں ماوں اور بہنوں کی دلدوزنالوں اورچیخوں نے آسمانوں کوجنھجوڑاہے۔ایک ہولناک عذاب آنیوالاہے۔
اورلوگ مجھ پرطنزکرتے ہیں کہ تمہاراقلم خاموش ہے۔ہاں ہاں خداکی قسم مجھ میں اور میرے قلم میں اتنی سکت اورطاقت نہیں کہ اتنے مظالم کوبیان کرسکیں۔کاش کاش میں اپنے جزبات لکھ سکتا۔
ہرطرف ناانصافی ظلم بربریت اورخون ہی خون ہے۔آہیں ہیں آنسوہیں نوحے ہیں فریادہے دلدوزنالے ہیں۔کیاکیالکھوں؟میں اورمیرے قلم ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کرخوب روتے ہیں۔مگرتمہارے سامنے میں بھی چپ میراقلم بھی چپ۔سینکڑوں دلدوزحقیقی کہانیاں ہیں۔مگر۔۔مگرمجھ میں اورمیرے قلم میں اتنی سکت نہیں کہ ان کولکھوں۔میں بے بس ہوں۔میراقلم بے بس ہے۔اتنی درناک قصے کہانیاں ہیں کہ میں بھی خون کے آنسوروتاہوں میراقلم بھی روتاہے۔ہم دونوں رو رہے ہیں۔بظاہرلوگ ہمیں خاموش سمجھ کرطنزکے نشترچلارہے ہیں۔طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔مگرخداکی قسم ایسانہیں ہے۔
