تحریر- پروفیسرغلام دستگیرصابر
پہلامنظر۔بائیس جنوری کادن کوئیٹہ میں شدیدسردی۔درجہ حرارت منفی آٹھ.صبح سویرے نوجوان ادیب اورشاعرشیخ عتیق حسرت،دانش مینگل،عرض جان زہیر، شاہدشاز اور دوسرے نوجوان دوست سردارمنیراحمدمینگل روڈ پرشدیدسردی سے بے نیازکتابوں کااسٹال لگائے ہوئے ہیں۔یہ لوگوں کومنتیں کرکے کہتے ہیں کہ خداکے لئے صرف ایک کتاب آدھی قیمت پر خریدو۔لوگ ان دیوانوں پرحیران ہوکر پوچھتے ہیں۔بھائی صاحب خیرہے۔یوں زبردستی کتابیں بیچ رہے ہو؟شیخ عتیق نہایت نرم مگردردناک انداز میں کہتاہے۔لالا ہمارا ایک نوجوان مگرغریب شاعر خالد
جان کوبلڈکینسرہے۔غربت کی باعث وہ اپناعلاج نہیں کرواسکتا۔موت کے خونی پنجے اس کوجھکڑرہے ہیں۔اگرفوری اسکاعلاج نہ ہوا تووہ نہیں بچے گا۔
ہم یہ کتابیں فروخت کرکے خالدجان کودینگے۔ہوسکتاہے وہ بچ جائے۔
شیخ کی گلوگیرآوازسن کروہ شخص سکتے کی حالت میں کہتاہے۔اف۔۔بلوچستان اتناتباہ ہے کہ نوجوان کے علاج کے لئے تم لوگ اس شدیدسردی میں کتابیں بیچتے ہو؟؟
گزشتہ چاردنوں سے منیراحمد روڈپر یہ ادب،علم اورانسان دوست اپنے گھروں،روزگاراورتمام مصروفیات کوچھوڑکرایک نوجوان شاعرکی جان بچانے کے لئے لوگوں کومنتیں کرکے کتابیں بیچتے ہیں۔انسانیت زندہ باد۔دوسرامنظر۔۔میرگل خان نصیرچوک نوشکی پرگزشتہ چار دنوں سے ادبی تنظیموں کے نمائندے اورنامورشعراء و ادباءڈاکٹرعالم عجیب،غمخوارحیات،برکت زیب،رفیق شوہاز،نذیرحجازی،ظہورزیب دیگرشعرا اورکچھ قوم دوست سیاستدان،ایک دری بچھائے بیٹھے ہیں اورمسلسل ہاتھ جوڑکراسپیکرکے زریعےلوگوں سے التجاکرتے ہیں کہ وہ نوجوان شاعرخالدجان کی جان بچانے کے لئے چندہ دیدیں۔یہ وہ شعراء اور ادباء ہیں جوپیاراورمحبت کے گیتوں سے لوگوں کے دلوں کوگرماتے تھے۔مگر آج وہ انسانیت کے ناطے بھکاریوں کی طرح چندہ کررہے ہیں۔ایسے عظیم بھکاریوں کوسلام۔سرزمین نوشکی کے باسیوں نے بھی دل کھول کرعطیات دیئے۔چاردنوں میں لاکھوں روپے دیئے۔شکریہ سرزمین گل خان۔شکریہ سرزمین آزادجمالدینی۔
تیسرامنظر۔مستونگ بازارمیں ایک بوڑھاشاعراور افسانہ نگارمحترم رحیم ناز،براہوئی زبان کے معروف مزاحیہ شاعرعبداللہ جوہر،نوجوان شاعرعطاء ساجداور دیگرشعرا اپنی انا،عزت،مقام سب کوصرف انسانیت کے ناطے قربان کرکے ہاتھ میں ایک چندہ بکس لئے ایک ایک دوکاندار کے پاس جاکر ہاتھ جوڑکرکہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان شاعر خالدجان کینسرکے موزی مرض میں مبتلاہے۔اس کی جان بچانے کے لئے آپ ہمیں چندہ دیں۔۔اف۔۔کتنادرناک منظرہے۔رومانوی اشعارکے خالق بزرگ شاعررحیم ناز کے لبوں پر فریاد ہے۔اور اپنی مزاحیہ شاعری کے زریعے سب کوخوب ہنسانے والے عبداللہ جوہرکے آنکھوں میں آنسو۔استادرحیم نازکااس بڑھاپے میں ہاتھ پھیلاکرچندہ کرناانسانیت کی فتح مگرحکمرانوں کے چہروں پرزوردارتپھڑہے۔ نامورشاعرپروفیسرمان منصور اسپتال میں گردوں کے بیماری اور شدیددردمیں مبتلامگراپنی تکلیف کوبھلاکراپنے ساتھی وحیدزاکرکے زریعے چندہ کرنے کی اپیلیں کررہاہے۔ظہور صدیقی سمیت صوبے کے کئی نامورشعراء اور قلمکارجگہ جگہ ہاتھ پھیلاکرخالدجان کی جان بچانے کے لئے چندہ کررہے ہیں۔کتنے دردناک اورالمناک مناظرہیں۔ان میں کوئی بھی خالد کارشتہ دار نہیں۔مگریہ سب پیاراورمحبت کے سفیرہیں۔شاعرکے پاس محبت کے سوا اور کیاہے؟یہ سب عظیم انسان اورمسیحاہیں۔میں ہاتھ جوڑکرآپ سب کی عظمت کوسلام پیش کرتاہوں۔
کتنی شرمناک بات ہے۔ملک کاسب سے زیادہ امیر صوبے کاایک نوجوان اورغریب شاعرکینسرکی وجہ سے اپناعلاج تک نہیں کرسکتا۔سارے صوبے میں ایک بھی کینسرکاسرکاری اسپتال نہیں۔ایک بھی دل کااسپتال نہیں۔چوہترسالوں سے قومی،صوبائی، مزہبی،سیکولر،قوم پرست،پیٹ پرست سب نے بلوچستان پرحکومت کی۔اس دھرتی کوخوب لوٹا۔عظیم لیڈر میرگل خان نصیر،میرغوث بخش بزنجو،میرعاقل خان مینگل،میرحاصل خان سمیت اس بدبخت صوبے کے ہزاروں لوگ کینسرکی وجہ سے اپنی زندگیاں ہارگئے۔اور اب اربوں روپے بجٹ کے باوجود ایک نوجوان شاعر کے لئے لوگ چندہ کی شکل میں بھیک مانگ رہے ہیں۔آج شعراء کے ہاتھوں میں قلم کتاب کی جگہ کشکول ہے۔محبت کے گیت گانے والے آج اداس ہیں۔جب شاعراداس ہوں توساری دنیااداس ہوتی ہے۔اندھے گونگے اوربہرے حکمرانو۔۔۔۔۔یہ محلات یہ اونچےاونچے مکان۔۔ان کی بنیاد میں ہے ہمارا لہو۔۔۔۔کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تونہیں۔۔۔کچھ کرنہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے۔
