بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں ترکمانستان کی بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ گوادر کے لیے 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری دے دی گئی ہے۔
بلوچستان کی تاریخ میں ترکمانستان کی جانب سے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں یہ سب سے بڑی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے، جس سے بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کو براہ راست گیس فراہم کی جائے گی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس کے علاوہ سڑکوں، سیکیورٹی، زمینی حقوق، تعلیم اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بلوچستان میں ہمہ جہت ترقی، توانائی کی فراہمی اور عوامی فلاح کے نئے مرحلے کی عکاسی کرتے ہیں۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ گیس ٹرمینل صرف گوادر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے پنجگور، چاغی اور واشک سمیت صوبے کے پسماندہ اضلاع کو بھی گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی، جس سے توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری کی توقع ہے۔
اجلاس میں گوادر کے کلانچ اور نیو ٹاؤن کے رہائشیوں کو ملکیتی حقوق دینے کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ فیصلہ مقامی آبادی کے اس دیرینہ مطالبے سے جوڑا جا رہا ہے جس کا تعلق زمین کی ملکیت اور قانونی تحفظ سے ہے۔
گوادر کے علاقوں کلا نچ اور نیو ٹاؤن کے رہائشیوں کو ان کی زمینوں کے مالکانہ حقوق دینے کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے، جو مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔






