اسٹیٹ بینک کی توقعات کے برعکس جولائی میں مہنگائی 9.2 فیصد رہی

اسٹیٹ بینک کی توقعات کے برعکس جولائی میں مہنگائی 9.2 فیصد رہی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح جولائی 2026 کے دوران کم ہو کر 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو جون کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے، تاہم گزشتہ سال جولائی 2025 میں یہ شرح 4.1 فیصد تھی۔
ادارہ شماریات کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔
جبکہ جون میں مہنگائی میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ جولائی 2025 میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اعدادوشمار کے مطابق شہری علاقوں میں سالانہ افراطِ زر جولائی میں 8.7 فیصد رہی، جو جون میں 11.2 فیصد تھی، جبکہ جولائی 2025 میں یہ شرح 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
شہری علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ 0.5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔
دیہی علاقوں میں سالانہ افراطِ زر 9.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو جون میں 10.9 فیصد تھی، جبکہ ایک سال قبل جولائی 2025 میں یہ شرح 3.5 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں بھی قیمتوں میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جون میں قیمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہی تھیں۔
وزارتِ خزانہ نے اپنے تازہ ماہانہ اقتصادی جائزے میں جولائی کے دوران مہنگائی کی شرح 9 سے 10 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
وزارت کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 33.9 فیصد کمی بھی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران ایف ڈی آئی 2.48 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.64 ارب ڈالر رہ گئی۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مالی سال 27-2026 کے پہلے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔
اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے توقع ظاہر کی تھی کہ جولائی میں مہنگائی میں کمی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی سال کے اختتام تک صارف قیمت اشاریہ اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
معاشی ماہرین نے بھی جولائی میں مہنگائی کی شرح کے دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آنے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ گزشتہ سال کے بلند تقابلی اعدادوشمار ہیں، جبکہ بنیادی سطح پر قیمتوں پر دباؤ اب بھی برقرار ہے۔
ماہرین نے جولائی میں سالانہ مہنگائی 9.3 فیصد رہنے کا تخمینہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ سنگل ڈیجٹ میں واپسی حقیقی طور پر قیمتوں میں کمی کے بجائے زیادہ تر بیس ایفیکٹ کا نتیجہ ہے۔
ادھر جے ایس گلوبل نے جولائی کے لیے سالانہ مہنگائی کی شرح 9.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہ شرح 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!