جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی سطح پر مشترکہ کردار مؤثر بنانے اور متحدہ اپوزیشن تشکیل دینے پر اصولی طور پر متفق ہوگئی ہیں، اس حوالے سے مزید مشاورت جاری رہے گی۔
اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آج ابتدائی مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس بھی شریک تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اصولی طور پر طے کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب پیش رفت کی جائے گی تاکہ پارلیمان میں مشترکہ کردار زیادہ مؤثر انداز میں ادا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا اجلاس تھا، مزید مشاورت ہوگی اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے متحدہ اپوزیشن میں شامل ہونے سے متعلق سوال پر کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، اس لیے وہ اپوزیشن جماعتوں کی بات کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جانا ضروری ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے، پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انہیں جلد از جلد اسپتال منتقل کرکے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ شرکا نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور انہیں انسانی و طبی بنیادوں پر فوری علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔






