وزیراعلیٰ کے بیانات پراس سرزمین کے لوگوں کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں ، نوابزادہ لشکری رئیسانی

وزیراعلیٰ کے بیانات پراس سرزمین کے لوگوں کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں ، نوابزادہ لشکری رئیسانی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( پ ر) سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ریاستی سازش کے تحت قائم حکومت بلوچستان کے لوگوں کے مسائل میں اضافہ کررہی ہے ، مستونگ میںباغات کی کٹائی ہو یا دیگر علاقوں میں ریاستی طاقت سے لوگوں کی جائیدادوںپر قبضہ، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت آئندہ نسلوں کی امانت کا سودا اور داخلی طور پر لوگوں کو بے گھر کرنا نوآبادیاتی منصوبہ ہے، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلوچستان کے بدترین حالات کو ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرینہ پروجیکٹ کی پیداوار ہیں ان کے بیانات سے اس سرزمین کے لوگوں کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی سازشوں کے آگئے یکجا ہوکر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اس کیلئے بحرانوں سے نکلنے اور اپنے قومی اہداف حاصل کرنے کیلئے بلوچستان کے لوگ ایک باقاعدہ پالیسی تشکیل دیں، ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ مستونگ میںباغات کی کٹائی ہو یا دیگر علاقوں میں ریاستی طاقت سے لوگوں کی جائیدادوںپر قبضہ اور مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت آئندہ نسلوں کی امانت کا سودا ہو یہ سب نوآبادیاتی منصوبہ ہے ایسے میں سیاسی کارکن، حقیقی قبائلی عمائدین اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفاد کیلئے قربان کرکے بلوچستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے آگے بڑھیں، ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ بعض سیاسی جماعتیں موجودہ بحرانوں کی ذمہ داراور نام نہاد حکومت کی سہولت کار ہیں لوگوں کو چائیے کہ وہ ان سہولت کاروں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں، انہوںنے کہاکہ بلوچستان کو داخلی طور پر بے گھر افراد(Persons Displaced Internally ) کے بحران کا بھی سامنا ہے ریاستی سازش کے تحت لوگوں کو بے دخل کیا جارہاہے آئی ڈی پیز کیلئے قائم اقوام متحدہ کے ادارے اس جانب توجہ دیں،ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ قانون کی آڑ میں بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار ہورہی ہے ، زمینداری اور تجارت کو بھی منصوبے کے تحت خراب کیا گیا ہے اور ان نام نہاد لوگوں کو سامنے لایا گیا ہے جو ریاستی سازش کی پیداوارہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے