کھلے خشک دودھ کی فروخت پر پابندی،ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں

کھلے خشک دودھ کی فروخت پر پابندی،ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن اس مستقبل کی بنیاد صحت مند جسم اور بہتر نشوونما پر قائم ہوتی ہے۔ ایک شیر خوار بچے کے لیے خوراک کا انتخاب محض گھر کی ایک معمولی ضرورت نہیں بلکہ اس کی صحت، نشوونما اور زندگی کے تحفظ سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کو دی جانے والی ہر غذائی چیز کے معیار اور حفاظت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔دودھ بچوں کی خوراک میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے، لیکن دودھ اسی وقت فائدہ مند ہو سکتا ہے جب وہ معیاری، محفوظ اور صحت کے اصولوں کے مطابق تیار اور محفوظ کیا گیا ہو۔ اگر اس کے معیار، اصل، اجزا یا محفوظ رکھنے کے طریقہ? کار کے بارے میں ہی یقین نہ ہو تو والدین کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو کیا دے رہے ہیں۔بلوچستان، خصوصاً کوئٹہ میں ایک عرصے سے بچوں کے لیے خشک دودھ کھلے وزن کے حساب سے فروخت کیے جانے کا معاملہ سامنے آتا رہا ہے۔ بعض دکانوں اور میڈیکل اسٹورز پر ایسا پاو¿ڈر کھلے ڈبوں، تھیلوں یا برتنوں میں موجود ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات مقامی ناموں، غیر واضح برانڈنگ یا بچوں کی تصاویر والے پیکٹس میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا والدین کو معلوم ہے کہ وہ اپنے بچے کو جو دودھ دے رہے ہیں، وہ کہاں تیار ہوا، کب تیار ہوا، اس کی میعاد کیا ہے اور اسے کس ماحول میں محفوظ رکھا گیا؟خشک دودھ کیا ہے اور کیا یہ فائدہ مند ہے؟خشک دودھ بنیادی طور پر دودھ کو صنعتی طریقے سے اس میں موجود پانی سے پاک کرکے پاو¿ڈر کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے۔ اگر یہ کسی باقاعدہ، رجسٹرڈ اور معیاری کمپنی کی تیار کردہ مصنوعات ہو، مناسب طریقے سے تیار اور محفوظ کی گئی ہو اور مکمل لیبلنگ کے ساتھ بند پیکٹ میں فروخت کی جائے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔بچوں کے لیے مخصوص فارمولا دودھ میں بچے کی ضروریات کے مطابق پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹس، وٹامنز اور معدنیات شامل کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو یا طبی مشورے کے مطابق فارمولا دودھ ضروری ہو تو معیاری فارمولا دودھ ایک قابلِ استعمال متبادل ہو سکتا ہے۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے: مسئلہ خشک دودھ کا نہیں، بلکہ غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ، نامعلوم اور کھلے طریقے سے فروخت ہونے والے دودھ کا ہے۔معیاری کمپنی کا اصل، بند پیکٹ میں دستیاب اور رجسٹرڈ فارمولا دودھ ایک الگ معاملہ ہے، کیونکہ اسے مخصوص معیار اور ضوابط کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے کھلے اور نامعلوم پاو¿ڈر کو کسی معروف کمپنی کے معیاری فارمولا دودھ کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔کھلے دودھ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟کھلے خشک دودھ کے استعمال میں سب سے بڑا مسئلہ اس کی قابلِ اعتماد شناخت اور حفاظت ہے۔ جب دودھ کھلے وزن کے حساب سے فروخت کیا جائے تو عام صارف کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے، اسے کب تیار کیا گیا، اس کی میعاد کب ختم ہوگی اور اسے کن حالات میں ذخیرہ کیا گیا۔کھلے برتنوں، ڈبوں یا تھیلوں میں رکھا ہوا پاو¿ڈر نمی، گردوغبار، حشرات اور جراثیمی آلودگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر اس میں ملاوٹ ہو جائے تو والدین کے لیے محض دیکھنے یا چکھنے سے اس کی شناخت کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔یہ معاملہ اس لیے مزید حساس ہے کہ نومولود اور کم عمر بچوں کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا۔ پاو¿ڈر کی شکل میں موجود شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ کی تیاری، صفائی، ذخیرہ اور استعمال میں معمولی سی غفلت بھی صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔لہٰذا بچوں کے لیے دودھ کا انتخاب صرف قیمت یا ذائقے کو دیکھ کر نہیں بلکہ معیار، حفاظت، اصل اور مناسب تیاری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ضلعی انتظامیہ نے اس مسئلے کے پیشِ نظر وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے کھلے غیر رجسٹرڈ خشک دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی اس تناظر میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں فوڈ اتھارٹی، محکمہ صحت، ڈرگ انسپکٹرز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں دکانداروں اور میڈیکل اسٹورز کو کھلا غیر رجسٹرڈ خشک دودھ فروخت نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی، گرفتاری اور دکان سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انتظامیہ کی جانب سےاس سلسلے میں عملی کارروائیاں بھی کی گئیں، جن کے دوران مختلف علاقوں میں متعدد دکانیں سیل کرنے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری خشک دودھ فروخت کرنے والے بعض افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔یہ اقدام یقیناً قابلِ تحسین ہے، کیونکہ بچوں کی صحت سے متعلق کسی بھی ایسے کاروبار کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جس میں معیار، رجسٹریشن اور مصنوعات کی اصل کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہوں۔صرف پاو¿ڈر نہیں، تیاری کا طریقہ بھی اہمخشک یا فارمولا دودھ استعمال کرتے وقت خطرہ صرف پاو¿ڈر کے معیار تک محدود نہیں رہتا۔ اسے تیار کرنے کا طریقہ بھی انتہائی اہم ہے۔اگر فارمولا دودھ غلط مقدار میں تیار کیا جائے، غیر محفوظ پانی استعمال کیا جائے یا بوتل اور برتن مناسب طریقے سے صاف نہ ہوں تو بچے کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے فارمولا دودھ تیار کرتے وقت پیکٹ پر درج ہدایات پر عمل کرنا، صاف پانی استعمال کرنا اور بوتل و دیگر برتنوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔جہاں ماں کا دودھ دستیاب ہو، وہاں اسے ترجیح دینا بھی بچے کی صحت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے دودھ خریدتے وقت چند بنیادی باتوں کا خاص خیال رکھیں دودھ ہمیشہ اصل اور بند پیکٹ میں خریدیں،ایکسپائری یا میعادِ استعمال ضرور چیک کریں،بیچ نمبر اور اجزا کی تفصیل دیکھیں،پیکٹ کی سیل اور حالت کا جائزہ لیں،کھلے اور نامعلوم پاو¿ڈر سے حتی الامکان گریز کریں۔فارمولا دودھ ہمیشہ پیکٹ پر درج ہدایات کے مطابق تیار کریں،صاف پانی اور صاف بوتل یا برتن استعمال کریں۔کیا ہر خشک دودھ پر پابندی ہے؟یہ وضاحت عوام کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ حالیہ کارروائی کا مقصد ہر قسم کے خشک دودھ پر پابندی لگانا نہیں ہے۔کارروائی کا بنیادی ہدف کھلے، غیر رجسٹرڈ، غیر واضح اور غیر برانڈڈ خشک دودھ کی فروخت کو روکنا ہے۔ لہٰذا معیاری کمپنیوں کے اصل، رجسٹرڈ اور بند پیکٹ میں دستیاب فارمولا دودھ کو کھلے اور نامعلوم پاو¿ڈر کے برابر سمجھنا درست نہیں۔یہ فرق عوام خصوصاً والدین کے لیے سمجھنا ضروری ہے تاکہ ایک طرف وہ غیر محفوظ مصنوعات سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں اور دوسری طرف معیاری اور ضابطے کے مطابق دستیاب مصنوعات کے بارے میں غیر ضروری غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔پابندی کے بعد اگلا مرحلہ کوئٹہ میں کھلے غیر رجسٹرڈ خشک دودھ کے خلاف پابندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس اقدام کو مستقل نگرانی اور مو¿ثر عمل درآمد کے ساتھ جاری رکھا جائے۔متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بازاروں میں باقاعدگی سے معائنہ کریں، مشتبہ مصنوعات کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹنگ کرائیں، غیر معیاری مصنوعات کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اور عوام میں بھی آگاہی پیدا کریں۔کیونکہ صرف ایک مرتبہ کارروائی کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ اگر نگرانی کمزور پڑ گئی تو ممکن ہے کہ یہی مصنوعات کسی دوسرے نام، نئے پیکٹ یا مختلف طریقے سے دوبارہ بازار میں آ جائیں۔بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے بچے اپنی خوراک کے معیار کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے والدین، دکانداروں، طبی ماہرین اور متعلقہ سرکاری اداروں کے فیصلوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی صحت کے معاملے میں ہر فریق کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو دی جانے والی خوراک کے معیار اور اصل کے بارے میں محتاط رہیں۔ دکانداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف معیاری اور قانونی طور پر قابلِ فروخت مصنوعات فراہم کریں، جبکہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائیں۔کوئٹہ میں کھلے غیر رجسٹرڈ خشک دودھ کے خلاف حالیہ پابندی اسی لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ تاہم اس اقدام کو مستقل نگرانی، شفاف لیبارٹری ٹیسٹنگ اور عوامی آگاہی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔آخرکار معاملہ صرف دودھ کے ایک پیکٹ کا نہیں، ہمارے بچوں کی صحت اور مستقبل کا ہے۔ اور بچوں کے مستقبل کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت، ملاوٹ یا سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے