آئی پی پیز کو 11 ماہ میں 29 کھرب روپے سے زائد ادائیگی تشویشناک ہے، سینیٹر قادر

آئی پی پیز کو 11 ماہ میں 29 کھرب روپے سے زائد ادائیگی تشویشناک ہے، سینیٹر قادر

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک صرف 11 ماہ میں آئی پی پیز کو 29 کھرب 35 ارب 76 کروڑ روپے کی ادائیگی توانائی کے شعبے کے غیر معمولی مالی بوجھ کی عکاس ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں 11 کھرب 68 ارب روپے انرجی پیمنٹس اور 15 کھرب 65 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ توانائی کے موجودہ نظام اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا فوری اور جامع جائزہ لیا جائے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ان ادائیگیوں کا بوجھ بالآخر عام بجلی صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صارف ایسی بجلی کی پیداواری صلاحیت کی بھی ادائیگی کرتا ہے جو ہر وقت استعمال نہیں ہوتی، جبکہ مہنگی بجلی صنعتی پیداوار، برآمدات اور ملکی معیشت کی مسابقت کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی چوری، لائن لاسز اور ناقص وصولیوں کا نقصان بھی ایماندار صارفین سے وصول کرنا ناانصافی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں سرچارجز، ٹیکسز، گردشی قرضے اور کیپسٹی پیمنٹس کا مسلسل بوجھ عوام کی قوتِ خرید اور صنعت دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا شفاف اور مو¿ثر جائزہ لیا جائے، مہنگی بجلی کی پیداوار کم کی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی بنیادی خامیاں دور کیے بغیر سستی بجلی اور معاشی استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے