پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات: حکومت نے جماعت اسلامی سے مزید وقت مانگ لیا

پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات: حکومت نے جماعت اسلامی سے مزید وقت مانگ لیا

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور اسلام آباد میں ہوا، تاہم فریقین کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے مزید 3 دن کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس دوران اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال مؤخر رکھے۔جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے فی الحال کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا اور زیادہ تر معاملات میں ’’آئیں بائیں شائیں‘‘ سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی ٹیم نے پیر تک لانگ مارچ سے متعلق حتمی فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو مطلوبہ ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی کے ملک بھر میں جاری دھرنے اسلام آباد کی طرف مارچ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینا اور پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے 6 نکات رکھے ہیں اور حکومت پہلے بھی مزید وقت مانگ چکی ہے تاہم مذاکرات کے دوران سرکاری حکام کی جانب سے مختلف انتظامی اور مالی مشکلات بیان کی جاتی ہیں۔ ان کے بقول بیوروکریسی ہر معاملے میں مشکلات کا پہاڑ کھڑا کردیتی ہے، لیکن جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر زیادہ انتظار نہیں کرسکتی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی مذاکرات کے عمل کو ایک حد تک آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس معاملے میں غیرضروری طور پر زیادہ وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کو آگاہ کیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق حتمی فیصلہ وہی کریں گے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے