حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوگیا ہے، جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کررہے ہیں۔
حکومتی وفد کے ارکان وفاقی وزیر امیر مقام، سینیٹر شیری رحمان، محسن نقوی، طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور دیگر اجلاس میں شریک ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام نے کہاکہ حکومت خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، اب دیکھنا ہے کہ اس عمل کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ معاملے کا حل جمہوری انداز میں نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امید پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز دی تھی جس کے بعد بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کی میز پر اسپیس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاملات کو زیر غور لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص اپنی پارٹی کی پوزیشن پر بات کرسکتا ہے تاہم مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کرسکتا۔ مذاکرات کے پہلے دور میں حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں نے سیاسی صورتحال، پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ اور دیگر معاملات پر اپنے مؤقف پیش کیے۔ فریقین نے قومی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم اہم امور پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ پہلے دور کے بعد بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کو خوشگوار ماحول میں ہونے والا قرار دیا تھا۔ دونوں جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔






