سپریم کورٹ نے بارودی مواد برآمدگی کیس میں مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا پانے والے 2 ملزمان ارشد علی اور واجداللہ کو بری کرتے ہوئے ان کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں۔ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ملزمان کے وکیل ارشد حسین یوسفزئی ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس ملک شہزاد احمد، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے۔ سیشن کورٹ صوابی نے دونوں ملزمان کو مجموعی طور پر 31 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے ملزمان کی اپیل مسترد کردی تھی۔ ملزمان نے ارشد حسین یوسفزئی ایڈووکیٹ کے ذریعے سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔




