سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں سعودی عرب میں موجود ہیں، جبکہ ’مکّہ ڈیفنس الائنس‘ کے تحت تینوں برادر ممالک نے فوری عملی عسکری اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے یہ ریمارکس امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں دیے، جس کا ایک مختصر کلپ انہوں نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیا۔ ایوان واٹسن نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ پاکستان کی افواج پہلے سے ہی وہاں (سعودی عرب) موجود ہیں‘۔ بقول ایوان واٹسن جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ کے تناظر میں پاکستانی دستوں کی گراؤنڈ پر موجودگی کی تصدیق چاہی، تو ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی دستے وہاں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ یہ اتحاد کئی خلا میں نہیں بنا بلکہ تینوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی تعلق کے باعث قائم ہوا ہے۔ لہٰذا میں بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی فورسز متعدد صلاحیتوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں‘۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور مسلسل سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی تعلقات قائم ہیں اور پاکستانی افواج کئی شعبوں میں پہلے سے وہاں موجود ہیں۔
سی این این کے مطابق یہ پیشرفت ریاض میں پیر کو ’مکّہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی عسکری افواج اور صلاحیتوں کی فوری منتقلی اور تعیّناتی پر اتفاق کیا ہے۔ سی این این کے مطابق اجلاس کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی نے مشترکہ دفاعی عہد کے فوری عملی عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت منظور شدہ انتظامات اور فریقین کے قومی قوانین کے مطابق طے شدہ عسکری صلاحیتوں کی سعودی عرب میں فوری منتقلی اور تعیّناتی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت اور عسکری ہم آہنگی کو مضبوط کیا جا سکے۔ اگست کو طے پانے والے ’مکّہ ڈیفنس الائنس‘ کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا ہے، جس کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام اتحادی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ 25 ستمبر کو بھی ریاض میں تینوں اتحادی ممالک پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے عسکری سربراہان کا اہم ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا تھا جس میں دفاعی امور کا جائزہ لیا گیا۔اس سے قبل 18 ستمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان خلیجی ملک کی دفاعی سلامتی کے لیے ’کسی بھی حد تک‘ جائے گا اور مملکت کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کا عزم ’بلا مشروط‘ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے