کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)متاثرین کاسی بحریہ ٹاون ایکشن کمیٹی بلوچستان نے کہا ہے کہ کاسی بحریہ ٹاﺅن کے ذمہ داروں کی جانب سے کسٹمرز لسٹ جاری نہ کیے جانے اور انتقالات کی معلومات کی عدم فراہمی کا نوٹس لیا جائے، ان خیالات کا متاثرین کاسی بحریہ ٹاﺅن ایکشن کمیٹی بلوچستان کے نورالحق ترین و دیگر نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کاسی بحریہ ٹاﺅن جو 2015 میں نواں کلی کے مبینہ متنازعہ زمینوں پر کاسی ٹاﺅن کے نام سے شروع ہوا جس کا سلسلہ بلیلی سے نوحصار تک پہنچا ، کاسی بحریہ ٹاﺅن کے مالک کی جانب سے مختلف ناموں سے دیگر اسکیم بھی شروع کئے گئے 5 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک کاسی بحریہ ٹاﺅن میں اب تک کوئی ایک شخص بھی رہائش پذیر نہ ہوسکا اور نہ ہی کوئی ترقیاتی کام پایہ تکمیل تک پہنچے بلکہ اب تک مذکورہ اسکیموں میں پلاٹوں کی نشاندہی بھی نہیں کرائی جاسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اصرار کے باوجود بھی کسٹمرز لسٹ جاری نہیں کی جارہی اور نہ ہی انتقالات کی معلومات فراہم جارہی ہے۔ انہوں نے کہ کچھ عرصہ قبل ایک پرفارما کے ذریعے مبینہ طور پر خوف و ہراس پھیلاکر پلاٹس بغیر کسی منافع کے پرانے ریٹ پر واپس لینا شروع کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کاسی بحریہ ٹاﺅن نے الاٹیز کے پلاٹوں کو بغیر کسی لیگل نوٹس اور مہلت کے کینسل کرکے وہی پلاٹ سو فیصد بڑھاکر دوبارہ انہی کوپروخت کیے اور جو پلاٹس منسوخ نہیں ہوئے ان کے چارجز ایگریمنٹ کے خلاف 2 سو گنا بڑھادیئے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کاسی بحریہ ٹاﺅن کے مالک کی جانب سے کوئٹہ کے نواحی علاقوں اغبرگ اور نوحصار میں بغیر این او سی اور متعلقہ دوستاویزات اور ڈیولپمنٹ کے ایک مہینے کے دوران 5 اسکیموں میں ہزاروں پلاٹس جاری کئے گئے جس کی وجہ سے اب ہزاروں خاندانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان ، چیف سیکرٹری سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ہزاروں خاندانوں کو انصاف دلانے کے لئے مذکورہ اسکیموں کے مالک کا نام ای سی ایل میں ڈال کر تحقیقات کرائی جائے۔






