لیڈی ڈاکٹر نے والد سے لڑائی کے بعد خودکشی کی

لیڈی ڈاکٹر نے والد سے لڑائی کے بعد خودکشی کی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی کے علاقے گزری میں خودکشی کرنے والی خاتون ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے حوالے سے علاقہ پولیس کا کہنا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی اپنے والد سے لڑائی ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے باتھ روم میں جا کر خودکشی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی خاتون ڈاکٹر کافی عرصے سے گھریلو پریشانی کا شکار تھیں، وہ غیر شادی شدہ تھیں اور انہوں نے 15 دن پہلے گھر کرایے پر لیا تھا۔ خاتون ڈاکٹر کا آبائی تعلق میر پور خاص سے ہے، پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گولی قریب سے لگی ہے، خودکشی میں نائن ایم ایم پسٹل استعمال ہوا ہے، جس کے چیمبر میں 2 گولیاں تھیں جن میں سے ایک چلی ہے، گولی بائیں طرف سے لگی اور دائیں طرف سے نکلی تھی۔ ڈاکٹر اپنے والد، والدہ 2 چھوٹی بہنوں اور ایک چھوٹے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر تھیں، واقعے کا مقدمہ والدین کے آنے کے بعد درج کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق خودکشی کرنے والی ڈاکٹر کے دوستوں سے بھی اس ضمن میں معلومات لی جا رہی ہیں، ڈاکٹر کا موبائل فون کا ڈیٹا بھی لیا جائے گا جس سے کچھ مدد مل سکے گی۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے گزری میں خاتون ڈاکٹر نے اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی، خاتون ڈاکٹر کلفٹن کے نجی اسپتال میں نوکری کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق گزری تھانے کے قریب خاتون ڈاکٹر ماہا علی شاہ نے گھر کے واش روم میں خود کو گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی جنہیں شدید زخمی حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر وہ 3 گھنٹے سے زائد زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد جاں بحق ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی شاہ کلفٹن میں واقع نجی اسپتال میں نوکری کرتی تھی۔ ماہا علی شاہ کے پاس پستول کہاں سے آیا اور خود کشی کی وجہ کیا ہے، پولیس کی جانب سے اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ ڈاکٹر ماہا کے والد میر پور خاص میں واقع مزار گرھوڑ شریف کے گدی نشین ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!