مانچسٹر ایرینا میں بم حملہ کرنے والے سلمان عبیدی کے بھائی نے اپنے خلاف سزا کے فیصلے کی سماعت کے لیے جیل کے سیل سے نکلنے اور عدالت جانے سے انکار کر دیا ہے۔ ہاشم عبیدی کو اس سال مارچ میں سنہ 2017 میں مانچسٹر میں ہونے والے شدت پسند حملے میں 22 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ حملہ 22 مئی 2017 کو گلوکارہ آریانا گرانڈے کا کنسرٹ ختم ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔ برطانوی عدالت اولڈ بیلی میں بتایا گیا کہ 23 سالہ ہاشم عبیدی نے اپنے بھائی کی اس حملے کے لیے مواد اکٹھا کرنے میں مدد کی جس سے ’اچانک اور مہلک‘ دھماکہ کیا گیا۔ دو دن طویل سماعت میں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے اپنے بیانات پڑھ کر سنائے اور اسی سماعت کے اختتام پر عبیدی کو سزا سنائی جائے گی لیکن عبیدی نے عدالتی سماعت میں حاضری سے انکار کر دیا۔ مسٹر جسٹس جیریمی بیکر نے کہا ’میرے پاس اختیار نہیں ہے کہ میں اسے طاقت کے استعمال کے ذریعے عدالت میں آنے پر مجبور کروں۔’ مانچسٹر میں پیدا ہونے والے عبیدی اُس وقت لیبیا میں تھے جب اُن کے بھائی نے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا تھا۔ انھوں نے 22 مئی 2017 کو گلوکارہ آریانا گرانڈے کے کنسرٹ پر حملے کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرنے کے الزام سے انکار کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت میں ججوں کو بتایا گیا کہ کیسے دونوں بھائیوں نے حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد مل کر اکٹھا کیا۔ رواں برس مارچ میں ہاشم عبیدی کو قتل کے 22 مقدمات، حملے میں زخمی ہونے والوں کے اقدام قتل کا ایک الزام اور دھماکہ کرنے کی سازش کرنے کے جرم کا مرتکب پایا گیا۔






