ایپل کے چینی ایپ اسٹور سے 47 ہزار سے زائد ایپلی کیشنز ہٹادی گئیں

ایپل کے چینی ایپ اسٹور سے 47 ہزار سے زائد ایپلی کیشنز ہٹادی گئیں

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث ایپل کے چائنا ایپ اسٹور سے ہزاروں ایپس ہٹادی گئیں جس کے باعث اس کے لاکھوں صارفین اور کمپنی کے مینوفیکچرنگ آپریشن کے لیے خطرات پیدا ہوگئے پیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ چین، ایپل کی جانب سے گزشتہ سالوں کے لوپ ہولز کو شاید بند کررہا تھا اور جس کے نتیجے میں حال ہی میں چائنیز ایپ اسٹور سے ایپلی کیشنز ہٹائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں چین میں کمپنی کے آپریشن کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ دی ورج کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں ایپل نے اپنی چینی ایپ اسٹور سے 47 ہزار سے زائد ایپلی کیشنز ہٹادیں۔ اس تبدیلی کو سب سے پہلے ایپ ان چائنا نے رپورٹ کیا تھا جس کے مطابق یہ اقدام غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ ایپل نے حال ہی میں پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک لوپ ہول کو ختم کیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایپل نے چین میں اپنی خدمات میں تبدیلی کی ہو، اس سے قبل چینی ریگولیٹرز نے اپریل 2016 میں ایپل کو آئی بک اسٹور اور آئی ٹیونز موویز بند کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ چینی ریگولیٹرز نے ملک میں ان اسٹورز کے لانچ کے صرف 6 ماہ بعد ہی ایسا کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق چین میں عموماً غیر ملکی ایپ اسٹورز کے لیے چینی شراکت دار کے ساتھ جوائنٹ وینچر لازمی ہے جو اس کا اکثریتی مالک اور آپریٹر بھی ہو۔ علاوہ ازیں ایپل نے ظاہری طور پر اب تک چین کے ساتھ آئی او سی کے لیے سورس کوڈ شیئر کرنے سے بھی گریز کیا ہے اور اس حوالے سے استثنیٰ پر چینی حکومت سے مذاکرات بھی کیے ہیں۔ حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اقدامات اٹھاتے ہوئے ان میں سے کچھ کے لیے امریکا میں کاروبار کرنا مزید مشکل بنادیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!