ترکی کے صدر طیب اردوگان نے اعلان کیا ہے کہ ایک ہزار سال پرانے کاریہ گرجا گھر میوزیم کو مسجد میں تبدیل کردیا جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طیب اردوگان نے اپنی انتخابی مہم میں ترکی کی 2 تاریخی عمارتوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا، آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کے بعد طیب اردوگان نے ہزار سال پرانی عمارت کاریہ گرجا گھر کو بھی مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایک ہزار سال پرانی یہ عمارت ترکی کے شہر استنبول میں گولڈن ہارن کے مغرب میں واقع ہے، اس عمارت کو 16ویں صدی میں خرید کر چرچ سے مسجد بنایا گیا تھا جس کے بعد 1948 میں جدید ترکی کی بنیاد رکھنے والے مصطفی کمال اتاترک نے اسے بھی آیا صوفیہ کی طرح مسجد سے میوزیم میں تبدیل کردیا تھا۔ طیب اردوگان نے اس عمارت کو دوبارہ مسجد بنانے کا اعلان کرکے اپنا انتخابی وعدہ پورا کرلیا ہے، لیکن آیا صوفیہ کو بطور مسجد بحال کرنے کے بعد کیا ہوا ان کا وعدہ ابھی بھی ادھورا ہے۔ طیب اردوگان نے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا تھا ہماری اگلی منزل قبلہ اول یعنی مسجد اقصیٰ ہے، جسے ہم جلد یہودیوں سے آزاد کروائیں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ترکی کے صدر کی جانب سے اسرائیل مخالف بیانات ترک عوام میں اسرائیل کیلئے نفرت کو تیزی سے ابھار رہے ہیں اور اسرائیل ترکی کو ایران سے بھی بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد بھی مسلم ممالک میں سے سب سے سخت ردعمل ترکی کی جانب سےسامنے آیا، ترکی کے صدر کی اسرائیل کیلئے نفرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، طیب اردوگان نے متعدد مقامات پر اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور سخت پیغام دیا ہے۔ ترکی کی عمارتوں کو دوبارہ مساجد میں تبدیل کرکے طیب اردوگان یقینا مسلم دنیا میں اپنا مقام اونچا کرنے میں ضرور کامیاب ہورہے ہیں اور اسی طرح مظلوم فلسطینیوں کی آواز بننے اور اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے بھی متعدد مسلم ممالک ترکی کے پیچھے کھڑے ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں۔
