بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ نیا نہیں ‘بی این پی

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ نیا نہیں ‘بی این پی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ مرکزی کمیٹی کے ممبر اقبال بلوچ کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ، زونل پریس ناصر بلوچ، زونل آرگنائزئنگ کمیٹی کے ممبر عزیز اللہ بلوچ نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانذیب جمالدینی سے ملاقات کیا، ملاقات میں عالمی علاقائی صورتحال بلخصوص بلوچستان کے موجودہ حالات کے حوالے تبادلہ خیال کیا اس موقعے پر بی ایس او کے وفد نے حیات بلوچ انصاف فراہمی تحریک کے حوالے سے آگاہ کیا اس موقعے پر ڈاکٹر جہانذیب جمالدینی نے کہا بلوچستان کے حوالے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا سلسلہ نیا نہیں نہ ہی حیات بلوچ کے شہادت جیسا واقعہ پہلی دفعہ پیش آیا ہے اسطرح کے واقعات کا شکار بلوچستان کے تمام مکاتب فکر رہے ہے کبھی گولیوں سے چھلنی کرکے لاشیں پھینکی گئی کبھی امن امان کے نام پر بلوچ کو دہشت گرد پیش کرکے سیاسی عمل میں شراکت داری سے روکا گیا جب تک سیاسی تحریک و دہشت گردی میں فرق نہیں کی جاتی ریاست اپنے پالیسی کو تبدیل نہیں کرتی اسی طرح بلوچ کمزور ہی سہی لیکن ظلم و جبر کے خلاف اپنے آواز بلند کرینگے مظالم کے خلاف طاقت کے زور پر آواز کو دبایا نہیں جاسکتا بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہر دور میں مظالم کے خلاف آواز بلند کیا ہے ان مظالم کے خلاف خاموش نہیں رہنگے اس موقعے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صدی میں چیلنجز کا مقابلہ شعور و منظم سیاست کے زریعے ممکن ہے جب تک اداروں کو فعال و نظریاتی دلیل و مباحثے کے زریعے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا دھونس دھمکیوں و منفی عوامل کے زریعے کسی صورت سیاسی ادارے نہیں چلائے جاسکے انہوں نے بی ایس او کوئٹہ زون کے ممبر عزیزاللہ بلوچ پر حملے و تشدد کی مذمت نظریاتی کارکنوں کے تعمل و برداشت کو سررہا اس موقعے پر بی ایس او کے چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا کہ بی ایس او بلوچستان کے تمام مسائل کے حوالے سے ہمیشہ پرامن و جمہوری جدوجہد کی قائل رہی ہے بلوچ نوجوانوں کو جذبات اور انتہا کے بجائے کتاب و قلم کی طرف راغب کرنا بی ایس او کے کوششوں کا نتیجہ کتاب و قلم کو ہتھیار بنا پر بی ایس او نے تعلیمی اداروں کو میدان عمل بنایا حیات بلوچ کے شہادت جیسے واقعات کا مقصد اور پرامن احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش تعلیمی عمل و سرکلنگ روک کر نوجوانوں کو جذبات کا شکار بنانا ہے انہوں نے مزید کہا کہ جدید صدی کے تقاضوں کے مطابق پرامن جدوجہد کے قائل ہے لیکن طاقت کے زور پر کسی صورت بی ایس او کے پرامن جدوجہد کو دبایا نہیں جاسکتا بی ایس او بلوچ شہدا کے وارث تنظیم ہے شہدا کے قومی جدوجہد پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرینگے قومی اتحاد و یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!