کراچی :  بجلی کی بحالی پانی نکلنے سے مشروط

کراچی : بجلی کی بحالی پانی نکلنے سے مشروط

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن اور ڈیفنس سمیت کراچی کی درجنوں آبادیوں کی بجلی 36 سے 48 گھنٹے ہوئے بحال نہیں ہو سکی ہے۔ شہریوں کے لیے دہرے عذاب کے اس مسئلے کو کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے ان علاقوں میں کھڑے برساتی پانی کی نکاسی سے مشروط کر دیا ہے۔ اس صورتِ حال کے خلاف شہریوں کا اشتعال بڑھتا جا رہا ہے اور مختلف آبادیوں میں کے الیکٹرک کی گاڑیوں اور عملے کی پکڑ دھکڑ اور ان سے زبردستی کام کروانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کے الیکٹرک کے کال سینٹر پر معلومات کے لیے فون کیا جائے تو وہاں کوئی شخص فون اٹینڈ نہیں کرتا بلکہ وہاں ریکارڈنگ سنائی دیتی ہے کہ ’’صرف بجلی کی وجہ سے کسی موت یا انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں فون کیا جائے‘‘۔ ترجمان کے الیکٹرک سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا موبائل فون بند پایا گیا۔ کے الیکٹرک کے بعض دیگر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جن بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا ہے وہاں کے الیکٹرک کے سب اسٹیشنز میں پانی بھر گیا ہے۔ ان سب اسٹیشنز سے جن جن علاقوں کو بجلی سپلائی کی جاتی ہے اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتی جب تک سب اسٹیشنز سے پانی نہیں نکل جاتا۔ آج صبح 11 بجے تک موصول ہونے والی شکایات کے مطابق کراچی کے پوش ایریا کلفٹن کے کئی علاقے پرسوں سے بجلی سے محروم ہیں۔ ڈیفنس کے کئی علاقے اور ملحقہ کچی آبادیاں آج صبح تک بجلی کی بندش سے خاص طور پر متاثر تھیں۔ اولڈ سٹی ایریا کے علاقے کھارادر، میٹھادر، آرام باغ، صدر، کیماڑی، لیاری کے کئی علاقوں، گلزارِ ہجری، سعدی ٹاؤن، اسکیم 33، ابوالحسن اصفہانی روڈ، پیراڈائز ہومز اور اطراف کے علاقے میں بجلی کی بندش کو دوسرا روز ہے۔ نیو کراچی، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن، منگھوپیر، اورنگی ٹاؤن، قائد آباد اور ملیر کے بیشتر علاقوں میں کئی کئی دن سے بجلی نہیں ہے۔ قائد آباد کے بعض علاقوں سے رات گئے بجلی کی بحالی کی اطلاعات آئیں مگر وولٹیج بہت کم ہونے کی وجہ سے شہری مشکل میں رہے۔ محمود آباد، منظور کالونی، بلوچ کالونی، شیر شاہ، ہاکس بے روڈ اور مچھر کالونی میں بھی بجلی کی بندش کی شکایات ہیں۔ سولجر بازار، گارڈن ایسٹ، اردو بازار اور رنچھوڑ لائن کے بعض محلے 40 گھنٹوں سے بجلی سے محروم ہیں۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی کے کئی علاقوں میں بھی بجلی کی طویل دورانیئے کی بندش کے بعد کچھ علاقوں میں بجلی بحال ہوئی ہے تاہم وہاں 57 سے 58 وولٹیج تک کا کرنٹ ہے۔شہریوں کے مطابق یو پی ایس کی بیٹریز گزشتہ روز سے ہی ختم ہو چکی ہیں، بیشتر گھروں میں جنریٹرز طویل دورانیے تک چلنے کے بعد جواب دے گئے ہیں۔ بجلی کی بندش کے خلاف شارعِ فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے قریب شہریوں نے احتجاج کیا، کالا پل کے مقام پر مشتعل افراد نے سڑک کے دونوں ٹریکس کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا تھا۔ شیر شاہ میں گل بائی پل کے نیچے ٹریفک کو مشتعل افراد نے بند کیے رکھا۔ محمود آباد اور بلوچ کالونی کے شہریوں نے ایکسپریس وے پل کے نیچے احتجاج کر کے ٹریفک معطل کر دیا تھا۔ گارڈن ایسٹ اور سولجر بازار میں بجلی سے محروم شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر ٹائر جلائے۔ ناظم آباد، گلبہار، لیاقت آباد ڈاک خانہ، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، لانڈھی، شریف آباد، ملیر، کالا بورڈ، نصرت بھٹو کالونی، الفلاح، ہجرت کالونی، مشرف کالونی، گلشنِ حدید سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ شیر شاہ، ماری پور اور ہاکس بے روڈ پر بجلی کی بندش کے خلاف شہریوں کی جانب سے گلبائی پل کے نیچے احتجاج کے باعث ہاکس بے روڈ پر آنے جانے والا ٹریفک معطل ہو گیا۔ ٹریفک پولیس کے مطابق دیگر ٹریفک کو متبادل راستوں پر ڈالا جا رہا ہے، احتجاج کرنے والوں میں خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں، جنہوں نے گلبائی پل کے نیچے دھرنا دے رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!