پاکستان میں 90فیصد لوگ صدارتی نظام چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کرنے والے عزیز خان کا موقف سنیے پاکستان میں نطام کی تبدیلی کی کوشش کیلئے سپریم کورٹ میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی۔درخواست ایک سیاسی جماعت کی جانب سے کی گئی جس میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کی استدعا کی گئی۔ چئیرمین ہم عوام پارٹی طاہرعزیز خان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہوچکا ہے، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ناگزیر ہے۔ طاہرعزیز خان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت90 فیصد پاکستانی عوام صدارتی نظام کے حق میں ہے۔اسلئے ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ہمیں ریفرنڈم کا موقع دیں کیونکہ 1973 کا آئین یہ اجازت دیتا ہے ۔ یہ پوری عوام کا مطالبہ ہے۔ درخواست میں وزیراعظم عمران خان، صدر پاکستان، الیکشن کمیشن اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کرانے کا حکم دیں۔ واضح رہے کہ عمران خان حکومت آنے کے بعد صدارتی نظام کی افواہیں زیرگردش تھیں اور تواتر کے ساتھ تجزیہ کار بھی کہتے رہے کہ ممکن ہے کہ جلد ہی پاکستان میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لے لے۔ اینکر عمران خان نے کچھ عرصہ پہلے دعویٰ کیا کہ بہت ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے اور یہ ریفرنڈم کرونا کی وبا ختم ہونے کےبعد ہوسکتا ہے۔اینکر عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ ریفرنڈم کس بات پر ہوگا لیکن ذرائع کے مطابق ریفرنڈم صدارتی نظام پر ہوگا۔ کچھ عرصہ پہلے ہارون رشید نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ طے کر چکی ہے ملک میں صدارتی نظام لانا ہے ۔






