افغان طالبان کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ دوحا میں ہونے والے مذاکرات طویل اور پیچیدہ ہونگے، تاہم ان میں کسی بڑے بریک تھرو کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔ سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغان طالبان کا وفد ملا عبد الغنی برادر کی سربراہی میں اسلام آباد سے (قطر) دوحا کیلئے روانہ ہوگیا ہے، جہاں افغانستان ، امریکا اور افغان حکومت کے درمیان پیر 7 ستمبر سے مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ طالبان گروپ کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے ہونے والے مذاکرات میں ملا برادر کی سربراہی میں طالبان کا مختصر وفد، امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اور افغان حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ شریک ہونگے۔ ملا برادر کی سربراہی میں گروپ جمعہ کی شام اسلام آباد سے قطر ایئر لائنز 633 کے ذریعہ دوحا روانہ ہوا۔ وفد 25 اگست کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر پاکستان آیا تھا۔ دوسری جانب مذاکرات میں حصہ لینے کیلئے افغان حکومت کا وفد ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی سربراہی میں روانہ نہ ہوسکا اور تاخیر کا شکار ہوگیا۔ افغان حکومتی ذرائع کے مطابق وفد کی روانگی میں تاخیر خراب موسم کے باعث ہوئی۔ تاہم دوسری جانب افغان سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر افغان طالبان کسی جلدی میں امن مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ایسا ممکن نہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے اب بھی پرتشدد کاررووائیوں کا سلسلہ جاری ہے، ایسے ماحول میں امن مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ افغان حکومت نے باقی ماندہ 400 طالبان قیدی رہا کر دیے ہیں جس کے بعد بین الافغان امن مذاکرات کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات آئندہ ہفتے کسی بھی وقت شروع ہو سکتے ہیں، جس کیلئے ملا برادر کی سربراہی میں وفد دوحا پہنچ گیا ہے۔ افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کے مطابق طالبان کے تمام 5000 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اب براہِ راست مذاکرات جلد شروع ہو جائیں گے۔ رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان میں امن معاہدے کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے مابین 10 مارچ کو بین الافغان امن مذاکرات شروع ہونے تھے۔ لیکن قیدیوں کے تبادلے پر اختلافات کے باعث مذاکرات کے آغاز میں 6 ماہ کی تاخیر ہو چکی ہے۔ طالبان کی 5000 قیدیوں کی رہائی بین الافغان امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے پیشگی شرط تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکا کے موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغان امن کا ٹرمپ کارڈ کھیل کر صدارتی انتخابات میں کامیابی چاہتے ہیں، تاہم دوسری طرف اس گریٹ گیم کے دو اہم فریق افغان طالبان اور افغان حکومت ایک دوسرے پر اعتماد کرنے سے قاصر ہیں۔ دونوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور پرتشدد کاررئیواں کے روک تھام پر تاحال تحفظات موجود ہیں، جس کے باعث مذاکرات کی کامیابی بظاہر ناممکن نظر آتی ہے –
