لاہور : پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اورسابق وزیرقانون پنجاب رانا ثنااللہ نےقومی احتساب بیورو(نیب) کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا ہے کہ نیب آزادادارے کے طور پر نہیں چل رہا ، نیب کو حکومت ہدایت دیتی ہے۔تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اورسابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نیب کے سامنے پیش ہوئے ، رانا ثناء الللہ نے نیب آفس میں جوابات جمع کروا دئیے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت نیب کو اپوزیشن کیخلاف سیاسی انتقام کے طورپر استعمال کررہی ہے ، 2 سال سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ایک روپے کی پراپرٹی لانہیں سکے جو میں نے ظاہر نہیں کی ۔ میں نے کہا ہے کہ کوئی پراپرٹی ڈکلیئر نہیں کی تو اس کو میرے سامنے رکھیں میں نے کوئی پراپرٹی لی ہے تو گھر بیٹھے رجسٹری نہیں کرائی قانون کے مطابق کروائی ہے ۔ انہوں نےکہا کہ کہ نیب کو حکومت ہدایت دیتی ہے ، حکومت بتاتی ہے کہ کس پر کیس کرنا ہے اورکس پر نہیں ؟ یہ سب لوگ مجبور ہیں اوراپنے ضمیر کے قیدی ہیں ۔یہ حکومت کے ہاتھو ں بلیک میل ہورہے ہیں ۔ نیب اپنے ناک پر بیٹھی مکھی نہیں اڑا سکتا جو ہو رہا ہے اوپر سے ہو رہا ہے۔ نوٹس دینا نیب کی مجبوری ہے لیکن انکوائری اپوزیشن کیخلاف ہو تو نیب کی کا کوئی اصول نہیں ۔ جب تک اس حکومت سے نجات حاصل نہیں ہوتی اپوزیشن اور عوام کو یہ چیزیں برداشت کرنی پڑیں گے۔ لیگی رہنما نے مزید کہا کہ نیب احتساب نہیں بلکہ پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے،اپوزیشن 20 تاریخ کو اپنا متفقہ لائحہ عمل بنائے گی اور اس عوام کو آزاد کروانے کیلئے ایجنڈا بنائے گی ۔ پنجاب پولیس میں تبدیلیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئی جی تبدیل ہوئے ہیں ، انعام غنی کو جانتا ہوں اچھا آدمی ہے اور میرٹ پر کام کرنے والا ہے ،انعام غنی نے کل بتا دیا ہے کہ ہم ایک نوٹس کی مار ہیں ایک افسر جو سیکشن آفیسر کے ایک نوٹس کی مار ہو وہ کیا کام کر سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ2 جنوری 2020 کو نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں سابق وزیر قانون رانا ثنااللہ کوطلب کیا تھا ۔نیب نے رانا ثنا اللہ اوران کے خاندان کے باقی افراد کو شامل تفتیش کر رکھا ہے ۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال 2 جولائی کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے رانا ثناء اللہ کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے سکھیکی انٹرچینج سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت 10، 10 لاکھ کے مچلکے کے عوض منظور کی تھی۔
