لسبیلہ یونیورسٹی کے آفیسرز کالونی کے سرکاری نیے تعمیر شدہ اور پرانے گھروں کی غیر معیاری اور بوسیدہ حالت زار کا نوٹس لیا جائے ۔
گزشتہ روز یونیورسٹی کے آفیسرز کالونی میں رہائش پذیر پروفیسر کے گھر کی چھت گرنے سے پروفیسر بال بال بچ گئے ۔
غیر معیاری مرمت اور نئے تعمیر ہونےوالے ایک ارب روپے کے میگا پروجیکٹ جسمیں 2 فیکلٹی بلڈنگ، اکیڈمک بلاک، اسٹوڈنٹس ہاسٹلز،کلاس رومز اور لیبارٹریز اقرباء پروری اور کرپشن کی نظر جسکی واضع مثال پروجیکٹ اختتام ہونے کے قریب ہے اور سول انجنیئر کے بغیر مکمل ہونا سمجھ سے بالاتر ہے ۔
جس ادارے کا سربراہ خود ٹھیکیدار بن جائے وہاں تعمیراتی کام کا اللہ ہی حافظ اور ظلباء کے مستقبل سے کھیلنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ گورنر بلوچستان، وزیر آعلئ بلوچستان، چیف جسٹس آف بلوچستان، چیرمین نیب سے گذارش ہے کہ یونیورسٹی میں تمام تعمیراتی کام کا جائزہ کیلئے آعلئ سطئ تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے سے بچ جائے ۔
