کوئٹہ:اقراءسکولزایسوسی ایشن بلوچستان کے صوبائی صدرحضرت علی کوثر صوبائی جنرل سیکرٹری مولوی نعمت اللہ صوبائی پریس سیکرٹری مولوی محمدجیلانی سینئرنائب صدرقارری محمداسلم علم یار نائب صدردوئم رحمت اللہ غزنوی فنانس سیکرٹری زیب الرحمن ڈاکٹرصلاح الدین کاکڑ،سراج کاکڑ عبدالظاہرکاکڑ مولوی زین اللہ ڈاکٹرشفیق الرحمن لانگوقاری عرفان لودھی محمدنعیم کاکڑ مولوی فضل الرحمن حافظ عبدالعزیزآمین اللہ کاکڑ مولوی خیرمحمد مولوی محمدانورحاجی مہربان اچکزئی نذیراحمدشمشیری حافظ سیدنورقاری عبدالجبارودیگرنے اپنے مشترکہ بیان میں کہاہے کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کے مسائل ومشکلات کوحل کرنے کی اگرتوفیق نہیں رکھتی تویکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کی احکامات صادرکریں تعلیم کی موجودہ ابترصورت حال اورانکے سائیڈ افیکٹ مستقبل قریب میں نمودار ہوگا جو کرونا سے بھی زیادہ نقصاندہ ثابت ہوسکتاہے انہوں نے مزیدکہاں کہ کروناکوکنٹرول کرنے میں حکومت باالکل ناکام نظرآرہاہے اورحکومت نے نجی تعلیمی اداروں کوچھ ماہ سے زائدعرصے سے بندکرکے نجی سکولزمالکان اور اساتذہ کو معاشی تباہی سے دوچارکردیاہے جس کی وجہ سے بلوچستان بھرکے نجی سکولوں میں خدمات سرانجام دینے والے 50 ہزارسے زائداساتذہ اور28 سوسے زائدسکول مالکان کو بے روزگاکردیاگیاہے انہوں نے کہاکہ اب فاقہ کشی اورذہنی ٹیشن کی وجہ سے اساتذہ اورسکولزمالکان کاصبرکاپیمانہ لبریزھوچکاہے کیونکہ نجی سکولزکی 90 فیصدبلڈنگ کرائے کے مکانوں میں واقع ہیں بہت سے سکولز مالکان نے کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے سکول مالکان کوسکول خالی کرنے کے نوٹسزجاری کرکے سکول مالکان کومزیدپریشانی کاسامناکرناپڑرھاہے لہذاہماراحکومت سے مطالبہ اورڈیمانڈ روزاول سے یہی رہاہے کہ ہمارے مطالبات تسلیم کئے جائے لیکن بدقسمتی سے ہمیں آسرادے کرخاموش کئے جاتے ہیں عملی طورپرکچھ بھی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے اورنہ کوئی مثبت جواب ملتاہے۔




