بی ایس او کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ، انفارمیشن سیکرٹری ناصر زہری بلوچ، آرگنائزینگ کمیٹی کے میمبر عزیز بلوچ، جامعہ بلوچستان کے آرگنائزر فیصل بلوچ، ہاسٹل چیرمین نعمت بلوچ، سینئر ممبر ثناہ بلوچ، کالج آف ایجوکیشن یونٹ کے آرگنائزر مشتاق بلوچ نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت وقت بلوچ استاد کو منظر عام پر لانے کلیے اپنا فرضی کردار ادا کرے، بلوچستان یونیورسٹی کے ایک بلوچ پروفیسر کی اغوا ایک انتہائ افسوس اور درد ناک واقعہ ہے حکومت بلوچستان کی ایک شعوری استاد کلیے انکی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے، بلوچ دشمن پالیسیاں اور ریاست کے منفی ہتکھنڈے پچھلے 73 سالوں سے آج تک جاری ہے جس کا ثبوت یونیورسٹی آف بلوچستان کے پروفیسر لیاقت سنی بلوچ ہے انکا قصور صرف یہ ہے کہ وہ بلوچ ہے ریاست کی بلوچ دشمن پالیسیاں نہ ختم ہونے والا مشن ہے یہاں شاید چند عناصر نے قسم اتھائ ہے بلوچستان اور بلوچ کے شعوری دانشوری اور علمی استادوں کو اور طالب علموں کو زندانوں میں بند کر کے ختم کرنا، پر بلوچ پچھلے 73 سال سے ایسے جھیلوں زندانوں اور موت کے گھاٹ اتار دینے والے اداروں سے نہ ڈرے ہے نہ ڈریں گے ایک علمی استاد کو اچانک اغواء کرنا ان کو نا معلوم مقام پر منتقل کرنے کا مقصد صرف یہ پیغام دینا ہے کہ بلوچ اگر قلم اٹھانے کی کوشش کرے گی بھی نہیں بچے گی بی ایس او کوئٹہ زون ریاست کے انصاف دلانے والے اداروں سے اور حکومت وقت سے اپیل کرتی ہے بلوچ پروفیسر ڈاکٹر لیاقت سنی کو منظر عام پر لایا جاے بصورت دیگر بی ایس او کوئٹہ زون احتجاج کا جمہوری حق محفوظ رکھتی ہے.
